عمران خان کا ایک اور یوٹرن ارکان اسمبلی میں واپسی کیلئے اڑان بھرنے کو تیار

  جمعرات‬‮ 6 اکتوبر‬‮ 2022  |  11:47

اسلام آ باد ( مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان اور ان کی پارٹی کے ممبران قومی اسمبلی ایک اور یو ٹرن لینے کیلئے تیار ہیں۔عمران خان اور ان کی پارٹی نے گیارہ اپریل کو قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا اعلان کیاتھا۔ سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے استعفوں

کی منظوری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا تھا۔ پی ٹی آئی کے 20 ممبران قومی اسمبلی منحرف ہوگئے تھے اور اب بھی اسمبلی کا حصہ ہیں۔بعد ازاں موجودہ سپیکر راجہ پرویز اشرف نے یہ کیس دوبارہ اوپن کردیا اور استعفوں کی تصدیق کیلئے شیڈول جاری کیا مگر پی ٹی آئی کے مستعفی ارکان اسمبلی تصدیق کیلئے نہیں آئے۔ اس دوران پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اسمبلی واپس نہیں جائیں گے۔روزنامہ جنگ میں رانا غلام قادر کی خبر کے مطابق اب پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے اپنے اراکین کے استعفوں کی منظوری کے سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے ۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت اسپیکر قومی اسمبلی کو ہدایت دے کہ وہ استعفوں کی منظوری سے متعلق اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں۔درخواست گزاروں نے یہ استدعا بھی کی کہ عدالت اسپیکر راجہ پرویز اشرف کو حکم دے کہ وہ درخواست گزاروں اور دیگر 112 ارکان کو طلب کریں اور تحقیق کرلیں کہ جن اراکین نے استعفے دیے انہوں نے آئین کی دفعہ 64 کے تحت اپنے مرضی سے دیے تھے۔یہ استدعا اسلئے باعث تعجب ہے کہ سپیکر نے تو انہیں بلایا تھا مگر وہ خود نہیں گئے تھے لیکن اب وہ عدالت سے سپیکر کو دوبارہ بلانے کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کر رہے ہیں۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎