جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

مشکل معاشی حالات میں پاکستانیوں کے لئے بڑی خوشخبری

datetime 16  جولائی  2022 |

نیویارک (این این آئی)عالمی بینک نے پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 20 کروڑ ڈالر فنانسنگ کی منظوری دیدی، اس منصوبے سے کلائمٹ اسمارٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے پانی کا بہتر استعمال، زراعت پر شدید موسمی حالات کے اثرات کم

اور پنجاب کے چھوٹے کسانوں کی آمدنی بہتر ہوگی۔عالمی بینک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے پنجاب رزیلینٹ اینڈ انکلوسیو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن’(پی آر آئی اے ٹی) منصوبے کی منظوری دی، اس منصوبے سے صوبے کے تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار چھوٹے کسان مستفید ہوں گے اور 14 لاکھ ایکڑ زمین کو فائدہ پہنچے گا۔عالمی بینک کے اسلام آباد میں رزیڈنٹ مشن نے اعلان کیا کہ اس منصوبے کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو پانی کی بچت، زیادہ پائیدار اور زراعت پر موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کم کرنے کے حوالے سے ٹریننگ بھی فراہم کی جائے گی، جس میں خواتین بھی شامل ہیں، صوبے کی 74 فیصد خواتین کے گزربسر کا ذریعہ زراعت ہے۔پنجاب کی خواتین پر زراعت کی بڑی ذمہ داری ہے، تاہم ان کی کم پیداواری صلاحیت کے متعدد عوامل ہیں، تقریبا 74 فیصد خواتین کے روزگار کا ذریعہ زراعت پر منحصر ہے، تاہم صرف 40 فیصد باضابطہ طور پر ملازم ہیں، دیہی خواتین کی نصف تعداد کھیتی باڑی اور خاندانی مزدوری سے وابستہ ہیں جبکہ ان میں سے 75 فیصد کو کام کے بدلے معاوضہ نہیں ملتا۔منصوبے کی دستاویز کے مطا بق یہ منصوبہ دریائے سندھ پر واقع ہے لہٰذا اس منصوبے میں موجودہ واٹر کورسز کی بحالی بھی شامل ہے، مجموعی طور پر یہ منصوبہ وسائل کی استعداد کار بڑھانے اور مثبت ماحولیاتی اور سماجی اثرات کا باعث بنے گا،

اس کے ساتھ منصوبے کے اہداف میں روزگار میں بہتری، زرعی پیدوار میں اضافہ بھی شامل ہے، اس سے چھوٹے اور پسماندہ علاقے کے کسانوں کو فائدہ ہوگا جبکہ یہ پانی کے نقصانات بھی کم کرے گا۔پنجاب کا زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت اور فوڈ سیکیورٹی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، صوبہ ملک کی مجموعی خوراک کا 73 فیصد حصہ ڈالتا ہے، یہ منصوبہ چھوٹے کسانوں کو پانی کی مؤثر اور مساوی رسائی کے ذریعے زرعی پیدوار میں

اضافہ کرے گا، یہ منصوبہ خاندی سطح پر کسانوں کو سپورٹ کرے گا کہ وہ کلائمٹ سمارٹ فارمنگ اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے فصلوں کی پیدوار میں اضافہ اور پانی کی بچت کرسکیں۔عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ناجے بن حسائن نے کہا کہ حالیہ سالوں میں پاکستان کا زرعی شعبہ موسمیاتی تبدیلی اور پنجاب میں شدید خشک سالی کے سبب فصلوں کی پیدوار، غذا کی قلت، آبپاشی کے انفراسٹرکچر اور مویشیوں کے

حوالے سے نقصانات سے دوچار ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ منصوبہ پنجاب زرعی پالیسی 2018 کے مطابق ہے، اس میں پانی کو بچانے کی وسیع تر کوششوں کو فروغ دینا، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنا اور نجی شعبے کی مدد سے پیدوار کو بڑھانا شامل ہے۔پی آر آئی اے ٹی کا منصوبہ جدید ترین طریقہ کار پر عملدآمد کرکے اور کلائمٹ اسمارٹ ٹیکنالوجیز کی مدد سے پنجاب حکومت کی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد فراہم

کرے گا۔منصوبے کے ٹیم لیڈر نے بتایا کہ زرعی شعبے کے پاس بہت بڑا موقع ہے کہ وہ زرعی پیداوار میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرے اور معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے ساتھ مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں رسائی حاصل کرے، ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ مارکیٹ پر مبنی پیداواری سرگرمیوں کے ذریعے زرعی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو تیز کرنے میں مدد کرے گا، جس سے قیمت میں اضافہ اور کسانوں کو زیادہ آمدنی ہوگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…