مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی )ایک اسرائیلی عدالت نے جمعہ کو ماتحت عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مسجد اقصی میں یہودیوں کی عبادت پر پابندی کو برقرار رکھا ہے۔ ماتحت عدالت کے فیصلے پر فلسطینیوں اور مسلم دنیا نے شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق آریہ لیپو نامی ایک اسرائیلی عالم کی جانب سے گذشتہ ماہ مسجد اقصی کے احاطے میں
عبادت کرنے پر دو ہفتوں کی پابندی لگائی گئی تھی لیکن منگل کو بیت المقدس کی ایک عدالت نے اس پابندی کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ لیپو کی سرگوشی میں کی جانے والی عبادت پولیس کی ہدایات کی خلاف ورزی نہیں تھی۔یہودیوں کو الاقصی کمپائونڈ میں جانے کی اجازت ہے لیکن وہ وہاں پر عبادت نہیں کرسکتے اور نہ ہی رسومات میں ادا کرسکتے ہیں۔اسرائیلی پولیس نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی جس پر بیت المقدس کی ضلعی عدالت کی جج آریہ رومانوف نے پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ افسران نے وجوہات کی بنا پر کارروائی کی تھی۔رومانوف نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص تھا جس نے لیپو کی عبادت کا مشاہدہ کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کھلم کھلا عبادت کر رہے تھے اور میں پولیس کمانڈر کے فیصلے کو بحال کرتی ہوں۔فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ اردن مصر اور سعودی عرب کے حکام نے ماتحت عدالت کے فیصلے کی مذمت کی تھی۔مسلمانوں کے نزدیک اسلام کا تیسرا سب سے مقدس مقام بیت المقدس ہے اور یہودیوں کے لیے دو قدیم عبادت گاہوں کے مقام کے طور پر قابل احترام ہے۔اسرائیل نے 1967 میں مسجد اقصی سمیت مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا لیکن اردن شہر میں اسلامی مقامات کی نگہبانی کرتا ہے۔کوئی بھی اسرائیلی قانون مسجد اقصی میں یہودیوں کی عبادت کی ممانعت نہیں کرتا لیکن 1967 سے اسرائیلی حکام نے کشیدگی کو روکنے کے لیے پابندی لگا رکھی ہے۔پولیس کی پابندی کے حق میں دیے جانے والے اپنے بیان میں اسرائیل کے پبلک سکیورٹی کے وزیر عمر بار لیف نے خبردار کیا ہے کہ سٹیٹس کو میں تبدیلی عوامی امن کو خطرے میں ڈال دے گی۔



















































