بدھ‬‮ ، 06 مئی‬‮‬‮ 2026 

طالبان کے کریک ڈاؤن کا خوف 100 سے زائد موسیقار افغانستان چھوڑ گئے

datetime 5  اکتوبر‬‮  2021 |

کابل (این این آئی)افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد سے اب تک 100 سے زائد موسیقی کے طلبا اور اساتذہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں موسیقی کے انسٹی ٹیوٹ کے سربراہوں اور پرنسپل نے تصدیق کی کہ 100 سے زائد موسیقی کے طلبا اور اساتذہ ملک چھوڑ چکے ہیں۔میلبورن میں رہنے والے افغانستان نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میوزک کے

بانی احمدسرمست نے بتایا کہ ملک میں نئی طالبان اتنظامیہ کی جانب سے موسیقی پر کریک ڈاؤن کے خوف سے افغانستان کے اعلیٰ میوزیکل انسٹی ٹیوٹ کے مجموعی طور پر 101 اراکین پیر کی شام دوحہ پہنچے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گروپ میں نصف خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں اور پرتگالی حکومت کے تعاون سے وہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں،ملک چھوڑنے کے آخری لمحے تک جان سولی پر تھی،احمدسرمست نے بتایا کہ کابل میں قطری سفارت خانے کی مدد سے موسیقاروں کو چھوٹے گروپوں میں شہر کے ہوائی اڈے تک پہنچایا گیا۔کابل ایئر پورٹ پر نگرانی کرنے والی طالبان فورسز نے ان کے ویزوں پر سوال اٹھایا تاہم قطری سفارت خانے کے حکام اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب رہے۔پھر لڑکیوں اور عورتوں کو بتایا گیا کہ وہ اپنے عارضی ’سروس پاسپورٹ‘ کے ساتھ ملک سے باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ اس طرح کے پاسپورٹ صرف عہدیداروں جاری ہوتے ہیں،اس کے بعد ایک مرتبہ پھر قطری حکام کی مداخلت پر معاملہ حل کرایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ چند گھنٹوں کے بعد طیارے نے پرواز کی تو لوگ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے۔احمد سرمست نے کہا کہ طیارے میں موجود تمام آنکھیں نم تھیں، میں زاروقطار رو رہا تھا، میرے اہلخانہ بھی میرے ساتھ رو رہے تھے، وہ میری زندگی کا سب سے خوشی کا لمحہ تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے طلبا کے ساتھ گزارے گئے خوشگوار لمحات کو کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے جنہوں نے متعدد بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے کر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ دکھایا۔احمد سرمست نے کہا کہ جس دن سے طالبان نے کابل پر کنٹرول حاصل کیا اس کے بعد سے موسیقی کاروں اور موسیقی کے خلاف امتیازی سلوک شروع ہوگیا، افغانستان کے لوگ ایک مرتبہ پھر خاموش ہوگئے۔انہوں نے بتایا کہ طالبان نے تمام میوزیکل اداروں کے اراکین کو آئندہ احکامات تک گھر میں ہی رہنے کی ہدایت کی تھی لیکن 2 ماہ انتظار کرنے کے باوجود کوئی احکامات یا معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔احمد سرمست کا کہنا تھا کہ کابل سے نکل جانا دراصل پہلا مرحلہ تھا اور اب 184 دیگر اراکین اور طالبہ کی ا?مد تک جدوجہد جاری رہے گی تاکہ ایک مرتبہ پھر ہم سب ایک ساتھ جمع ہوجائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…