منگل‬‮ ، 05 مئی‬‮‬‮ 2026 

برطانیہ نے ان افغان شہر یوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا

datetime 22  ستمبر‬‮  2021 |

لندن (این این آئی)برطانیہ کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’20 سالہ جنگ کے دوران فوج کی مدد کرنے والے ہر افغان شہری کو بطور مہاجر قبول نہیں کر سکتے۔ وزیر دفاع جیمز ہیپی کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی افغانوں کے لیے متعارف کرائی گئی ’نقل مکانی اور معاونتی پالیسی کے تحت ہر افغان کی زندگی کو خطرہ قرار دیتے ہوئے مدد نہیں کی جا سکتی۔پارلیمان میں رکن کلیو ایفرڈ کے بیان پر

جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ افغانستان میں برطانیہ کے آپریشن کے دوران لوگوں نے مدد کی اور جو اس سکیم کے اہل بھی ہیں، لیکن پھر بھی انہیں تسلیم نہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے رواں ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ برطانیہ اس ملک کے ان افغان دوستوں کی مدد کرے گا جنہوں نے رہنمائی کی، ترجمہ کیا اور ہمارے فوجیوں کے ساتھ فرائض انجام دیے۔ انہوں نے اپنی ہمت اور وفاداری کا بلاشبہ ثبوت دیا۔وزیراعظم کے بیان کے برعکس وزیر دفاع جیمز ہیپی کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت سے ارکان پارلیمان کے لیے مایوس کن ہے جو شدت سے افغانستان میں رہنے والوں کی معاونت کرنا چاہتے ہیں اور ان کی جو خطرے میں ہیں، لیکن ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر ایک شخص کو باہر نکالا جاسکے جس کا برطانوی فوج کے ساتھ تعلق رہا ہے۔وزیر دفاع جیمز ہیپی نے بتایا کہ انخلا کے دوران 15 ہزار برطانوی فوجیوں اور افغان شہریوں کو کابل سے برطانیہ لایا گیا ہے جبکہ اے آر اے پی سکیم کے تحت تسلیم ہونے والے دیگر سینکڑوں افغانوں کو کہا گیا ہے کہ وہ دیگر ذرائع کے تحت برطانیہ آسکتے ہیں۔برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ اے آر اے پی سکیم کے تحت لائے گئے افغانوں کے علاوہ بیس ہزار افغانوں کو برطانیہ میں پناہ لینے کی اجازت دی جائے گی۔برطانوی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ صورتحال واضح ہونے میں کچھ عرصہ لگے گا کہ کن افراد کو افغانستان سے نکالنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کی صورت حال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور خطے میں ہماری شراکت داریاں بن رہی ہیں، لیکن ہمیں مکمل یقین ہے کہ ہم ان کی مدد کر سکیں گے جنہیں مدد کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…