جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

امریکا کو ایبسولوٹلی ناٹ کہنے اور فوجی اڈے نہ دینے پر عمران خان کے مشکور ہیں،گلبدین حکمت یار

datetime 14  ستمبر‬‮  2021 |

کابل،واشنگٹن( آن لائن ، این این آئی)افغانستان میں حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی کے امکانات ختم ہو رہے ہیں، وزیر اعظم امریکا کو اڈے دینے سے انکار پر وزیراعظم عمران خان کے مشکور ہیں۔ اپنے ایک انٹرویو میں حزب اسلامی کے سربرا کا کہنا تھا کہ دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں ایک ہی پارٹی کی

حکومت ہوتی ہے، افغانستان میں ایک پارٹی کی حکومت ہونی چاہئے، وزیر اعظم عمران خان نے جرات مندانہ طور پر کہا کہ افغان جنگ میں جانا غلطی تھی، بھارت کو چاہئے وہ بھی اس سے سیکھے، امریکا کو ایبسولوٹلی ناٹ کہنے اور فوجی اڈے نہ دینے پر عمران خان کے مشکور ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنج شیر میں اب بھی بہت سے ممالک سازشیں کررہے ہیں، فرانس کا اس میں ہاتھ ہے، گلبدین حکمت یار نے کہا کہ بیرونی افواج کے نکلنے کے بعد افغان عوام بہت خوش ہیں۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلینکن نے گذشتہ ماہ سرانجام دئیے گئے افغانستان سے فوجی انخلا کے کام کا ٹھوس انداز سے دفاع کیاہے جس اقدام کے ذریعے دو عشروں سے جاری امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ عمل میں لایا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق کانگریس کی امور خارجہ کی کمیٹی کی سماعت کے دوران اپنے بیان میں بلینکن نے کہا کہ اگر صدر جو بائیڈن نے افغانستان میں مسلح افواج کو تعینات رکھنے کا فیصلہ کیا ہوتا تو خاص تعداد میں

امریکی فوج کو افغانستان میں تعینات کرنا پڑتا، تاکہ اپنا دفاع کرنے کے ساتھ طالبان کی چڑھائی کو روکنے کا کام کیا جائے، جس کا مطلب مزید جانوں کا نقصان ہوتا، اور پھر تعطل کو توڑنے کی خاطر ہم ایک غیر معینہ مدت تک افغانستان کی لڑائی میں الجھے رہتے۔انھوں نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ اس سے بھی زیادہ عرصے

تک افغانستان میں رہنے سے افغان سیکورٹی افواج یا افغان حکومت زیادہ مضبوط ہوتی یا اس قابل بنتی کہ اپنا دفاع خود کر سکے۔بقول ان کے اگر 20 سال کے دوران، جس میں مالی اعانت، اسلحہ اور تربیت کا کام کیا گیا جس پر اربوں ڈالر کی لاگت آئی، اگر یہ سب کچھ کافی نہیں تھا؛ تو پھر مزید ایک سال، پانچ یا 10 برس تک رہنے سے کیا فرق پڑتا؟طالبان باغیوں

نے اگست کے وسط میں ملک پر قبضہ کیا، جب صدر اشرف غنی سیاسی پناہ کے لیے متحدہ عرب امارات کے طرف بھاگ نکلے۔ امریکہ نے اگست کے اواخر تک کابل ایئرپورٹ سے ایک لاکھ 24ہزارافراد کا انخلا مکمل کیا، جن میں زیادہ تر افغان تھے، جن میں تقریبا 5500 امریکی تھے جب کہ تقریبا 100 امریکی پیچھے رہ گئے۔اس کے بعد چند امریکیوں

کو زمینی راستے سے یا چند ایک پروازوں کے ذریعے ملک سے باہر لایا گیا ہے، جس ضمن میں طالبان نے رضامندی دکھائی۔ بلینکن نے کہا کہ امریکی حکام بروقت یہ نہیں بھانپ سکے کہ افغان حکومت اتنی تیزی کے ساتھ گر سکتی ہے، جب طالبان ملک میں پیش قدمی کر رہے تھے۔بلینکن کے بہ قول محتاط اندازوں کے مطابق بھی یہ پیش گوئی ممکن نہیں تھی کہ جب امریکی افواج ملک میں موجود ہو تو کابل میں حکومتی افواج مات کھا سکتی ہیں۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…