جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

امریکہ کو حملے سے قبل ہمیں آگاہ کرنا چاہیے تھا ڈرون حملے پر افغان طالبان کا شدید ردعمل

datetime 29  اگست‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل ٗ واشنگٹن (این این آئی)افغانستان میں طالبان نے ملک کے مشرقی علاقے میں داعش کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا کے ڈرون حملے کی مذمت کردی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکا کو اس حملے سے قبل ہمیں آگاہ کرنا چاہیے تھا۔انھوں نے کہا کہ یہ حملہ واضح طور پرافغان علاقے پر کیا گیا ہے۔اس میں دو افراد ہلاک اور ایک بچہ اور دوخواتین زخمی ہوئیں۔

دوسری جانب امریکا کے محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان میجرجنرل ہانک ٹیلرنے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں نے افغان دارالحکومت کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے انخلا شروع کردیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق انھوں نے کہا کہ اب جب کابل میں فوجی مشن کے خاتمے کاآغاز ہوا چاہتا ہے تو ہزاروں فوجی اس ناقابل یقین حد تک اہم مشن کی تکمیل کے لیے دنیا بھراورامریکا کے اندر کام کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم امریکی شہریوں اورخطرے سے دوچار افغانوں کو کابل سے نکالنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میجر جنرل ٹیلر نے بتایا کہ درحقیقت کابل کے ہوائی اڈے پر قریبا 1400 افراد کی آج پروازوں کی جانچ پرتال کی گئی ہے۔علاوہ ازیں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے ان 13 فوجیوں کے نام اور دیگر تفصیلات ظاہر کر دی ہیں جو افغانستان کے دارالحکومت کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے باہر ہونے والے خود کش حملوں میں مارے گئے تھے۔ان میں سے پانچ فوجیوں کی عمریں 20 سے تیس سال کے درمیان تھیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ ہمارے بہادر سپاہیوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر خطرے سے دوچار ایک لاکھ سترہ ہزار

افغانیوں کی جانیں بچائیں جو افغانستان چھوڑنا چاہتے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جنرل ہانک ٹیلر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ میں مزید معلومات حاصل کرنے کے بعد تصدیق کر سکتا ہوں کہ افغانستان کے باہر سے ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں داعش کے دو اہم اہداف ہلاک اور ایک تیسرا زخمی ہو گیا۔ اس آپریشن میں کسی سولین کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ افغانستان کے اندراس طرح کی مزید فوجی کارروائیاں شروع کی سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ طور پر افغانستان میں ڈرون کے ساتھ ہونے والے حملے میں داعش کے کسی عہدیدار کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کابل ایئرپورٹ پر امریکی افواج کی تعداد اب 4000 سے کم ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…