جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

طالبان جنگجوئوں اور افغان فوج کے درمیان شدید لڑائی جاری دونوں جانب سے بڑے بڑے دعوے

datetime 14  اگست‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل(این این آئی)افغانستان کے شمالی صوبوں کندز اور سرپل کے دارالحکومتوں میں طالبان جنگجوئوں اور افغان فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے،شمال میں جوزجان صوبے کے دارالحکومت شبرغان میں بی 52 بمبار طیاروں کی مدد سے 200 سے زیادہ طالبان جنگجوئوں کو ہدف بنایا گیا ہے،ادھرافغانستان کے جنوبی اروزگان صوبے میں چھ طالبان جنگجو سیکورٹی فورسزکے فضائی حملے میں

ہلاک ہوگئے،مشرقی ننگرھار صوبے میں بعض مذہبی رہنمائوں نے افغان فوج کی حمایت کا اعلان کیا ہے،خوست صوبے کے شہر باک میں طالبان حملے کے بعد افغان فوج نے جوابی کارروائی شروع کردی ،شمالی پنجشیر صوبے کے مقامی حکام نے کہاہے کہ طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے،قندھار کے بین الاقوامی ایئر پورٹ پر راکٹ حملوں کے بعد پروازیں معطل کردی گئیں جبکہ مشرقی پکتیا صوبے کے شہر سیدکرم میں ایک دھماکے میں ایک خاندان کے 12 افراد ہلاک ہوگئے ،طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعوی کیا ہے کہ مسلح گروہ نے کنر صوبے کے شہروں شلطن اور اسمار پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ تاہم افغان حکومت نے تاحال ان قبضوں کی تصدیق نہیں کی ،شمال مشرقی صوبے کے یہ شہر اب قندھار، غزنی، ہرات اور لشکر گاہ سمیت ان بڑے شہروں میں سے ایک بن گئے ہیں جہاں طالبان نے مکمل کنٹرول سنبھالنے کا دعوی کیا ہے۔دریں اثنا طالبان نے پکتیکا صوبے کے مرکزی شہر شرنہ کے باہر دفاعی حدود عبور کرنے کا بھی دعوی کیاہے جبکہ پکتیکا کے شہروں یوسف خیل اور جانی خیل کے مراکز پر بھی کنٹرول سنبھالنے

کا دعوی کیا گیا ہے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے جنوبی اروزگان صوبے میں چھ طالبان جنگجو سیکورٹی فورسزکے فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے،جبکہ اروزگان کے صوبائی دارالحکومت ترینکوٹ میں مقامی لوگوں نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر شکایت کی ،دوسری جانب مشرقی ننگرھار صوبے میں بعض مذہبی رہنمائوں نے افغان فوج کی حمایت کا اعلان کیا ہے،شمالی

صوبوں کندز اور سرپل کے دارالحکومتوں میں طالبان جنگجوں اور افغان فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے،افغان وزارت دفاع کا کہناتھا کہ شمال میں جوزجان صوبے کے دارالحکومت شبرغان میں بی 52 بمبار طیاروں کی مدد سے 200 سے زیادہ طالبان جنگجوئوں کو ہدف بنایا گیا ہے،مشرقی خوست صوبے کے شہر باک میں طالبان حملے کے بعد افغان فوج نے جوابی کارروائی کی ،شمالی پنجشیر صوبے

کے مقامی حکام کا کہنا تھا کہ طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے،قندھار کے بین الاقوامی ایئر پورٹ پر حالیہ راکٹ حملوں کے بعد پروازیں معطل کردی گئیں جبکہ مشرقی پکتیا صوبے کے شہر سیدکرم میں ایک دھماکے میں ایک خاندان کے 12 افراد ہلاک ہوگئے ،بعدازاںطالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعوی کیا کہ مسلح گروہ نے کنر صوبے کے شہروں شلطن اور اسمار پر

بھی قبضہ کر لیا ہے۔ تاہم افغان حکومت نے تاحال ان قبضوں کی تصدیق نہیں کی ۔شمال مشرقی صوبے کے یہ شہر اب قندھار، غزنی، ہرات اور لشکر گاہ سمیت ان بڑے شہروں میں سے ایک بن گئے ہیں جہاں طالبان نے مکمل کنٹرول سنبھالنے کا دعوی کیا ہے۔اپنے ٹویٹ میں ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان نے شلطن شہر کے مرکز پر مکمل طور پر قبضہ کر لیا ہے جس میں پولیس کمانڈر اور ان کے

ساتھی شامل ہیں ،اسمار میں پولیس ہیڈ کوارٹر، انٹیلیجنس سنٹر اور تمام سامان اب طالبان کے قبضے میں ہے۔دریں اثنا طالبان نے پکتیکا صوبے کے مرکزی شہر شرنہ کے باہر دفاعی حدود عبور کرنے کا بھی دعوی کیا ۔ جبکہ پکتیکا کے شہروں یوسف خیل اور جانی خیل کے مراکز پر بھی کنٹرول سنبھالنے کا دعوی کیا گیا ۔تاہم افغان حکومت نے تاحال ان قبضوں کی بھی تصدیق نہیں کی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…