ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

موبائل فون کورونا وائرس کا شکار بناسکتا ہے،آسٹریلیا میں ہونیوالی طبی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

datetime 7  مئی‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کینبرا( آن لائن )موبائل فون میں ہر طرح کے جراثیم موجود ہوسکتے ہیں اور ان کو اکثر صاف کرنا نئے کورونا وائرس کی منتقلی کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔اس تحقیق میں 56 طبی تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا تھا کہ تاکہ جائزہ لیا جاسکے کہ موبائل فونز کس حد تک بیکٹریا اور وائرس وغیرہ کی آلودگی کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 2006 سے 2019 کے دوران 24 ممالک میں تحقیقات کی گئی تھی اور یہ کووڈ 19 کی وبا سے پہلے ہوئی تھی۔بونڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے نتائج سے ثابت ہوا کہ موبائل فونز میں صرف بیکٹریا ہی نہیں ہوتے بلکہ وائرسز اور فنگی سمیت ہزاروں جراثیم موجود ہوتے ہیں۔محققین نے دریافت کیا کہ اوسطا 68 فیصد موبائل فونز میں متعدد اقسام کے جراثیم موجود ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف مزاحمت بھی کرتے ہیں۔محققین نے فونز پر نئے نوول کورونا وائرس کی موجودگی پر کوئی نیا ٹیسٹ نہیں کیا مگر ان کا کہنا تھا کہ ایسا ٹھوس امکان ہے کہ موبائل فونز کووڈ 19 کے تیزی سے پھیلنے کا ذمہ دار ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کا باعث بننے والا وائرس گلاس، پلاسٹک اور اسٹین لیس اسٹیل پر کئی دن تک زندہ رہ سکتا ہے اور موبائل فونز جراثیموں کے میزبان ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ہم انہیں صاف نہیں کرتے اور ہم انہیں ہر جگہ لے جاتے ہیں اور ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔اس میں کھانے کا عمل بھی شامل ہے، سونے کی جگہ اور بلکہ متعدد افراد تو ٹوائلٹ بھی لے جاتے ہیں جبکہ طیاروں اور ٹرینوں میں بھی ان کا استعمال ہوتا ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ روزمرہ کی تمام اشیا کسی نہ کسی حد تک جراثیموں سے آلودہ ہوتی ہیں مگر جراثیموں کی آلودگی کے حوالے سے موبائل فونز کا مقابلہ کوئی چیز نہیں کرسکتی۔انہوں نے مشورہ دیا کہ اپنے ہاتھوں کو دھونے سے قبل فون کو صاف کریں۔ان کا کہنا تھا کہ محفوظ رہنے کے لیے ہر ایک کو سمجھنا چاہیے کہ موبائل فون جراثیمی آلودگی کا ایک ذریعہ ہے اور انہیں اپنا ہاتھ سمجھ کر ہی صاف کرنا چاہیے۔ان کے بقول موبائل فونز کو دیگر افراد سے بھی بہت زیادہ شیئر کیا جاتا ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو وائرس کی منتقلی کا امکان کم ہوسکتا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…