ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

شاہی تتلیوں سے جڑا پراسرار مگر دلچسپ راز

datetime 2  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)سائنس دانوں نے ایک ایسا ماڈل تشکیل دیا ہے جس کی مدد سے طویل سفر کرنے والی شاہی تتلیوں کا راز معلوم کر لیا گیا ہے۔شاہی تتلیاں، کیڑوں کی وہ واحد قسم ہے جو کہ اتنا وسیع فاصلہ طے کر سکتی ہیں۔
ماہرینِ حیاتیات اور ریاضیات کی ٹیموں نے مل کر ایک ایسے قطب نما پر کام کیا جو ان تتلیوں کے سفر کی آمد و رفت کا اندازہ لگاتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے ’سیل رپورٹس‘ میں شائع کیے گئے ہیں۔
اس تحقیق کی رہنمائی کرنے والے محقق پروفیسر ایلی شلزیرمین کا تعلق واشنگٹن یونیورسٹی سے ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ماہرِ ریاضیات کی حیثیت سے وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کس طرح نیورو بایولاجیکل سسٹم آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ان سے سائنس دان کون سی چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’شاہی تتلیاں اپنا سفر پہلے سے مقرر کردہ اور تیز ترین راستے کے ذریعے کرتی ہیں۔ وہ دو ماہ کے سفر کے بعد مرکزی میکسیکو میں ایک خاص جگہ پہنچتی ہیں، وہ ایسا کم سے کم توانائی اور اشاروں کی مدد سے کرتی ہیں۔‘
پروفیسر شلزیرمین نے اپنے ساتھی اور میساچوسیٹس یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرِ حیاتیات سٹیون ریپرٹ کے ساتھ مل کر ان تتلیوں کی آنکھوں اور اینٹینا سے نکلنے والے نیورانز (عصبی خلیے) کا معائنہ کا۔
پروفیسر شلزیرمین بتاتے ہیں کہ انھوں نے ان تتلیوں کو ملنے والے اشاروں کی نشاندہی کی جس سے انھیں پتہ چلا کہ یہ ان اشاروں کے لیے سورج پر انحصار کرتی ہیں۔
’شاہی تتلیاں اپنا سفر پہلے سے مقرر کردہ اور تیز ترین راستے کے ذریعے کرتی ہیں‘
وہ بتاتے ہیں: ’ان اشاروں میں سے ایک وہ ہے جو سورج کے افقی زاویے کی نشاندہی کرتا ہے اور دوسرا وہ جو انھیں دن کا وقت بتاتا ہے۔ ان سے ان تتلیوں کو ایک ایسا قطب نما مل جاتا ہے جس سے وہ دن بھر شمال کی طرف سفر کر پاتی ہیں۔‘
اس قطب نما سے ملنے والے اشاروں کی نشاندہی کے بعد پروفیسر شلزیرمین نے ایک ایسا ماڈل بنایا جو بالکل تتلیوں کے اینٹینا کی طرح کام کرتا ہے۔
یہ ماڈل انہی اینٹینا کی طرح دو حصوں پر مشتمل ہے، پہلا کلاک یعنی گھڑی، یہ وقت بتاتا ہے۔ اور دوسرا جو سورج کی پوزیشن کی نشاندہی کرتا ہے۔پروفیسر شلزیرمین بتاتے ہیں کہ اس ماڈل میں موجود سرکٹ ان دونوں اشاروں کو آپس میں ملا کر انھیں کنٹرول کرتا ہے اور سسٹم کو بتاتا ہے کہ وہ صحیع سمت میں جا رہے ہیں یا نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے لیے یہ بہت دلچسپ ہے۔ اس سے ہمیں ان اشاروں کے ملاپ سے ان کے رویے پر پڑنے والے اثرات کا پتہ چلتا ہے۔ ہم ان تصورات کے ذریعے اس سسٹم کا ایک روبوٹک یا خود مختار ماڈل تیار کر سکتے ہیں جو مکمل طور پر سورج کی توانائی کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے اور اس کی سمت کا اندازہ بھی سورج کی مدد سے پتہ چلے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…