جمعہ‬‮ ، 20 مارچ‬‮ 2026 

تباہ کن زلزلوں کا خطرہ، ناسا کے اعلان کے بعد کھلبلی مچ گئی

datetime 25  دسمبر‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)سائنس دانوں کے مطابق ایک بڑا سیارچہ کرسمس کے موقع پر زمین کے قریب پہنچ رہا ہے جب کہ بعض ذرائع ابلاغ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ سیارچہ ان 10 آسمانی پتھروں میں سے ایک ہے جنھیں ان کے حجم کی وجہ سے زمین کے لیے ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیا گیا ہے۔تاہم سائنس دانوں نے ایسے خدشات کو مسترد کر دیا ہے جن کے مطابق سیارچہ زمین پر زیادہ کشش پیدا کر سکتا ہے جس سے ممکنہ طور پر زمین پر آتش فشاں پھٹنے یا زلزلوں جیسی تباہی آ سکتی ہے۔ارتھ اسکائی کی خبر کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ 163899 یا 2003 ایس ڈی 220 نامی سیارچہ 24 دسمبر کو زمین کے قریب آئے گا اور ایک محفوظ فاصلے سے گزر جائے گا۔ناسا کے مطابق خلاءمیں آسمانی پتھر کے زمین کے قریب سے گزرنے پر بھونچال پیدا ہونے کےحوالے سے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔نظام شمسی پر نظر رکھنے والے ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ سیارچہ دوبارہ 2018 اور 2021 میں زمین سے اتنے ہی قریبی فاصلے پر آئے گا۔اس سیارچے کی قابل ذکر خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک بڑے حجم کا آسمانی پتھر ہے اور ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ 1.1 سے 2.5 کلو میٹر لمبا ہے۔ فی الحال سیارچہ 17.5 میل فی سکینڈ کی رفتار سے گردش کر رہا ہے تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سیارچے کی گردش سست ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ایس ڈی 220 سیارچے کا مدار وقت کے ساتھ تبدیل ہوگا اس لیے اس کی گردش بہت اہمیت کی حامل ہے۔ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اگر یہ سیارچہ ہماری زمین کی سطح سے قریب ترین آیا تو بھی اس کا فاصلہ 6,87,600میل یا گیارہ ملین کلو میٹر ہو گا۔ یہ فاصلہ زمین اور چاند کے درمیانی فاصلے سے 28 گنا زیادہ ہے۔ناسا کے مطابق یہ سیارچہ اس وقت دریافت ہوا تھا جب ہم نے خلاءمیں زمین سے قریب پائے جانے والے بڑے سیارچوں کی کھوج شروع کی تھی جو زمین سے ٹکرا سکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی مچا سکتے ہیں۔2003 اس آسمانی پتھر کی دریافت کے سال کو ظاہر کرتا ہے اور ایس ڈی 220 ایک کوڈ ہے جبکہ اس سیارچے کو ایریزونا میں واقع لویل آبزرویٹری کی طرف سے 29ستمبر 2003 میں دریافت کیا گیا تھا اور ناسا کی طرف سے اس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کم از کم 200 سال کے لیے اس سیارچے سے زمین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیارچہ 2003 ایس ڈی 220 ناسا کے ممکنہ انسانی قابل رسائی اہداف کی فہرست میں شامل آسمانی پتھروں میں سے ایک ہے اسی لیے اس کا مشاہدہ خاص طور پر اہم ہے۔ناسا کے سائنس دان 24 دسمبر کو زمین کے قریب سے گزرنے والے سیارچے کی پرواز کا مشاہدہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں جبکہ پورٹو ریکو میں اریسیبو آبزرویٹری کے سائنس دانوں کی طرف سے سات سے سترہ دسمبر تک سیارچے کا مطالعہ کیا گیا ہے اور اب کیلی فورنیا میں گولڈ اسٹون انٹینا آبزرویٹری سیارچے کا تجزیہ کر رہی ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…