بدھ‬‮ ، 06 مئی‬‮‬‮ 2026 

فِنچ چڑیا کی بقا خطرے میں

datetime 21  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)ایک نئی تحقیق کے مطابق چارلز ڈارون کے نظریہ ارتقا کو مزید بہتر بنانے میں مدد کرنے والی فِنچ چڑیا کی بقا خطرے میں ہے۔ایکواڈور کے گیلاپیگس جزیرے پر فِنچ چڑیوں کو کیڑے (پیراسائیٹ) منتقل کرنے والی مکھیوں سے خطرہ ہے جو ان کے بچوں پر حملہ کرتی ہیں۔ایشیا میں سریلی چڑیا کی نئی نسل دریافت پروں سے گانے والی چڑیا کا رازایک نئے ریاضیاتی ماڈل کے مطابق آئندہ 50 سالوں میں یہ چڑیاں ان کیڑوں کی وجہ سے معدوم ہو سکتی ہیں۔تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی مداخلت کی صورت میں ان کے معدومیت کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔سنہ 1830 کی دہائی کے اوائل میں گیلاپیگس جزائر پر قیام کے دوران چارلز ڈارون نے مشاہدہ کیا کہ مختلف جزیروں پر پائی جانی والی فِنچ چڑیوں میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہے۔ لیکن ان کی چونچوں کی ساخت مختلف جزیروں پر پائے جانے والی مختلف خوراک کے باعث ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔یہ جزیرے کیونکہ خشکی کے بڑے قطعہ سے خاصے فاصلے پر ہیں اس لیے ڈارون نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ چڑیاں ابتدا میں بالکل یکساں تھیں لیکن پھر وقت کے ساتھ فِنچ چڑیاں ارتقا کی منازل طے کرتے ہوئے مختلف اقسام میں تقسیم ہو گئی تھیں۔گیلاپیگس جزیروں پر اگرچہ کہ فنچز کی 14 سے 18 کے قریب اقسام پائی جاتی ہیں۔ تاہم اس تحقیق کے لیے عمومی طور پر پائی جانے والی میڈیم گراو¿نڈ فنچ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ گیلاپیگس جزیروں میں واقع سینٹا کروز جزیرے پر اس قسم کی چڑیوں کی تعداد دو لاکھ 70 ہزار کے لگ بھگ ہے۔سنہ 1830 کی دہائی کے اوائل میں گیلاپیگس جزائر پر قیام کے دوران چارلس ڈارون نے مشاہدہ کیا کہ مختلف جزیروں پر پائی جانی والی فِنچ چڑیوں میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہے لیکن ان کی چونچوں کی ساخت مختلف جزیروں پر پائے جانے والی مختلف خوراک کے باعث ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے فنچز کو گھونسلوں میں پائی جانے والی مکھی سے خطرہ ہے جن کے لاروے میں کیڑے ہوتے ہیں۔ یہ کیڑے ان چڑیوں کے بچوں پر اکثر رات کے وقت حملہ کرتے ہیں۔تحقیق کے سینیئر مصنف اور امریکہ میں یونیورسٹی آف یوٹا کے پروفیسر ڈیل کلیٹن کہتے ہیں

151218165504__87244225_c0088154-darwin_s_galapagos_finches-spl

’وہ اصل میں سنڈی نما کیڑے ہیں، یہی ان کی اصلیت ہے۔‘خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مکھیاں سنہ 1960 کی دہائی میں گیلاپیگس جزیروں پر آئی تھیں۔پروفیسر کلیٹن اور ان کے ساتھیوں نے پانچ سال پر محیط فنچ چڑیوں کی افزائش کی شرح پر ان مکھیوں کے اثرات سے متعلق معلومات کی مدد سے ایک ریاضیاتی ماڈل تشکیل دیا ہے۔ماڈل میں شامل تین ممکنہ منظر ناموں میں سے دو میں فنچ چڑیوں کی آبادی کم ہوتے ہوتے بالکل معدوم ہونے کے خطرے کا شکار ہو سکتی ہے۔ ممکنہ بد ترین صورت حال میں ان چڑیوں کی نسل اگلے 50 سالوں میں بالکل معدوم ہو جائے گی۔تحقیقی مقالے کی پہلی مصنف ڈاکٹر جینیفر ک±وپ کے مطابق اس ماڈل میں کچھ اچھی خبریں بھی ہیں۔ڈاکٹر ک±وپ نے اپنی تحقیقی مقالے کے لیے اس موضوع پر تحقیق کی تھی اور وہ اب یونیورسٹی آف میسا چوسس ڈارٹ ماو¿تھ میں حیاتیات کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔وہ کہتی ہیں: ’یہ (چڑیاں) ممکنہ طور پر مقامی سطح پہ معدومیت کی جانب جا رہی ہیں تاہم اگر آپ کیڑوں کے پھیلاو¿ کے امکانات کم کر دیں تو ان کے معدومیت کے خطرے کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔‘خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مکھیاں سنہ 1960 کی دہائی میں گیلاپیگس جزیروں پر آئی تھیںسائنس دانوں میں اس نکتے پر بحث پائی جاتی ہے کہ اگر کیڑوں سے متاثرہ گھونسلوں کی تعداد 40 فیصد تک کم کر دی جائے تو فنچ چڑیوں کے ناپید ہونے کا خطرہ بنیادی طور پر ختم ہو جائے گا۔سائنس دانوں کے مطابق اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلیے کئی طریقوں سے انسانی مداخلت کی جا سکتی ہے۔مثال کے طور پر کیڑے مار ادویات کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ روئی کے چھوٹے چھوٹے گولوں پر کیڑے مار ادویات لگا کر انھیں ایسی جگہ چھوڑا جا سکتا ہے جہاں سے یہ چڑیاں انھیں اپنے گھونسلوں میں استعمال کرنے کے لیے لے جائیں۔’وہ اگر کیڑے مار ادویات والی روئی کا ایک گرام بھی اپنے گھونسلوں میں استعمال کر لیں تو ان مکھیوں کا 100 فیصد خاتمہ ہو جائے گا۔‘سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مکھیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانی فنچ چڑیوں میں ارتقائی عمل کے ابھرنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔وہ فنچ سے ملتی جلتی ایک اور چڑیا کی مثال دیتے ہیں جنھوں نے کیڑوں کے حملے کی صورت میں ان سے مقابلہ کرنا سیکھ لیا ہے اور ان ایسی صورت میں یہ چڑیاں اپنے بچوں کی خوراک میں اضافہ کر دیتی ہیں جس سے ان کی بقا کی شرح میں بہتری آ گئی ہے۔
لیکن دوسری جانب فِنچ چڑیوں کے بارے میں سائنس دان فکرمند ہیں کہ شاید ان کے پاس اتنا وقت نہیں بچا کہ خود کو ڈھال سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…