بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

موسمیاتی تبدیلی کے ہولناک اثرات،2015ءنے ریکارڈ توڑ دیئے

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک)ماہرین کا کہنا ہے کہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں، ہونے والی موسیماتی تبدیلی کے اثرات کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری سیلشئس کا اضافہ ہو گیا ہے۔ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ اس کا سبب عالمی تپش اور سمندروں پر ’النینو‘ کے وقوعے کے قدرتی مظاہر ہیں۔عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے مطابق، 2015ءمیں عالمی اوسط درجہ حرارت اب تک درج تاریخ کا ریکارڈ گرم ترین سال تھا۔ادارے نے بتایا ہے کہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں، ہونے والی موسیماتی تبدیلی کے اثرات کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری سیلشئس کا اضافہ ہو گیا ہے۔موسمیاتی ادارے کے سربراہ، مائیکل جیراڈ کے بقول 2015 اب تک ریکارڈ کی گئی تاریخ کے مقابلے میں گرم ترین سال تھا، جس دوران سمندر کی سطح کا درجہ حرارت جب سے ناپ تول کا باقاعدہ نظام وضع ہوا ہے، اپنی اونچی ترین سطح پر تھا۔ عین ممکن ہے کہ ایک ڈگر سیلشئس کی سطح عبور ہو جائے گی۔ا±نھوں نے مزید کہا کہ یہ کرہ ارض کے لیے ایک انتہائی خراب خبر ہے۔ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ اس کا سبب عالمی تپش اور سمندروں پر ’النینو‘ کے وقوعے کے قدرتی مظاہر ہیں۔جیراڈ کے الفاظ میں، ’ہم النینو کے زوردار وقوعے کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جو ابھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ یہ دنیا کے متعدد خطوں پر پڑنے والے موسمیاتی اثرات کی شنید دیتا ہے۔ گذشتہ اکتوبر کا مہینہ غیرمعمولی طور پر گرم تھا۔ النینو کےتپش کے عوامل میں سال 2016 کے دوران اضافہ مزید جاری رہنے کا امکان ہے۔ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مطابق، پانچ سالہ مدت، 2011 سے 2015ءتک، تپش کا ریکارڈ دور تھا، جس دوران موسمیات کے کئی ایک ریکارڈ قائم ہوئے، جس میں موسمیاتی تبدیلی پر لو لگنے کے واقعات کے اثرات نمایاں تھے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی امریکہ میں یہ اب تک کا گرم ترین سال تھا، جبکہ ایشیا میں 2007ءگرم ترین سال تھا، اور جہاں تک افریقہ اور یورپ کا تعلق ہے، یہ سال دوسرا گرم ترین سال تھا۔جیراڈ کے بقول گرین ہاو¿س گیس کا اخراج، جو موسمیاتی تبدیلی کا باعث ہے، ا±سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے پاس اتنی سمجھ بوجھ اور آلات میسر ہیں کہ بہتر اقدام ہوسکتا ہے۔ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اگلے ہفتے پیرس میں اقوام متحدہ کے زیر سایہ موسمیاتی تبدیلی کا عالمی اجلاس منعقد ہونے والا ہے، جس میں عالمی سربراہان مملکت و حکومت شریک ہوں گے۔اس اجلاس سے پہلے، اب تک دنیا کے تقریباً 150 ملکوں نے گرین ہاو¿س گیس کے اخراج پر کنٹرول کی کاوشوں کا حصہ بننے کا عہد کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس کے باعث عالمی تپش کو تین ڈگری سیلشئس تک کم کیا جاسکتا ہے؛ جو کہ ایک ڈگری کی مزید کمی ہے، جب کہ ماہرین کہتے ہیں کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں موسم میں ناقابل بیان منفی اثرات نمایاں ہوں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…