اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) امریکا میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی اینڈ ایٹما سفیئرک ایڈمنسٹریشن (نووا) اور دیگر اداروں کے درجنوں سائنسدانوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ گزشتہ برس پوری دنیا میں 14 ایسے شدید واقعات رونما ہوئے جو غیرمعمولی ہیں اور اس کی وجہ گلوبل وارمنگ اور آب و ہوا میں تیزی سے آنے والی تبدیلی (کلائمٹ چینج) کو قراردیا جاسکتا ہے۔
ماہرین نے 180 صفحات کی رپورٹ میں گلوبل وارمنگ اورعالمی آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمٹ چینج) کو ایسے 50 فیصد واقعات کا ذمے دارقراردیا ہے۔ ہوائی میں سمندری طوفان اور ارجنٹینا، یورپ، جنوبی کوریا، چین، اور آسٹریلیا میں گرمی کی شدید لہر، نیپال میں برف کا طوفان، کینیڈا اور نیوزی لینڈ میں سیلاب، افریقا اور مشرقِ وسطیٰ میں خشک سالی شامل ہے۔ ماہرین نے خبردارکیا ہے کہ ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہوگا اوران کی شدت بھی بڑھے گی۔
شمالی امریکا :
امریکا میں کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ اور ہوائی میں سمندری طوفان کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جب کہ گزشتہ 2 برسوں میں سردی کی شدید لہر کا تعلق گلوبل وارمنگ سے نہیں۔
جنوبی امریکا :
دسمبر 2013 میں ارجنٹینا میں گرمی کی شدید لہر آئی اور نووا نے اس کا تعلق گلوبل وارمنگ سے جوڑا ہے۔ برازیل کے جنوب مشرق میں پانی کی شدید قلت کی وجہ بھی ا?ب و ہوا ہی کو قرار دیا گیا ہے۔
یورپ :
انسان کی معلومہ تاریخ میں برطانوی جزائر پر سال 2013 اور2014 کی سردی میں سب سے زیادہ سمندری طوفان نوٹ کیے گئے۔ ان دونوں برسوں میں برطانیہ شدید بارشوں سے جل تھل ہوگیا تھا جب کہ فرانس میں موسمیاتی شدت سے بارشیں رونما ہوئیں اور یورپ میں غیرمعمولی گرمی ہوئی۔
مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ:
مشرقی افریقہ میں خشک سالی کے شدید دورانیے اور شام میں بھی خشک سالی کا ذمے دار کلائمٹ چینج کو ٹھہرایا جارہا ہے۔
ایشیا :
کوریا اور چین میں شدید گرمی کی لہر کی وجہ بھی گلوبل وارمنگ ہی ہے جب کہ شمال مشرقی ایشیا اور سنگاپور میں خشک سالی کی وجہ آب و ہوا میں تبدیلی کو قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن یہ جکارتہ میں سیلاب کی وجہ بنا۔ ہمالیائی پہاڑی سلسلے میں برفانی طوفان کی وجہ بھی کلائمٹ چینج ہے۔
آسٹریلیا :
چار آزاد مطالعوں اور سروے سے معلوم ہوا کہ پچھلے برس آسٹریلیا میں گرمی کی 4 شدید لہروں میں بھی کلائمٹ چینج کا عمل دخل ہے۔
اس ادارے سے وابستہ سائنسدان اور رپورٹ کی مرکزی مصنفہ اسٹیفنی ہیرنگ کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں دنیا میں شدید گرمی کی لہر میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ سال 2014 میں زمین کے 12 فیصد حصوں پر غیرمعمولی گرمی نوٹ کی گئی ہے لیکن غیرمعمولی سردی کے آثار نہیں ملے۔ اگرچہ آب و ہوا میں تبدیلی اس کی بڑی وجہ ہے لیکن اس کی صرف یہی ایک وجہ نہیں تاہم انسانوں کی جانب سے آب و ہوا میں تبدیلی اور اس کے منفی اثرات اب سامنے آرہے ہیں اور دنیا بھر میں نوٹ کیے جارہے ہیں۔
گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے 14 اہم واقعات رونما
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
جمائمہ کے ’دوسرے شوہر کیمرون ‘کون ہیں؟ دونوں کی ملاقات کیسےہوئی؟ اہم تفصیلات منظرعام پر
-
راولپنڈی،ہوٹل میں متعدد بار زیادتی کے بعد خاتون حاملہ، پیدا ہونے والی بچی بھی چھین لی گئی
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
قیامت خیز گرمی سے 9 افراد جاں بحق، 2 روز میں اموات 19 ہوگئیں



















































