واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکہ بھر میں پرسنالٹی ٹیسٹ کی بنیاد پر نوکریاں دینے کا رواج بڑھ رہا ہے۔ اس رجحان کی بڑی وجہ انٹرویو اور عام ٹیسٹ کی بنیاد پر درست امیدوار کے انتخاب میں ناکامی ہے۔ اس ٹیسٹ کا رجحان کس قدر بڑھ رہا ہے اس کا اندازہ کیلیفورنیا کی ایک ہوٹل کمپنی کی صورتحال سے لگایا جاسکتا ہے جسے ان دنوں اپنے کال سینٹر کیلئے اسی فیصد اسامیوں کو پر رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس کمپنی میں نوکری کے امیدواروں کی دلچسپی ختم ہوچکی ہے یا پھر یہاں تنخواہوں کا مسئلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کیلی فورنیا اس وقت امریکہ کے ان شہروں میں شامل ہے جہاں بیروزگاری تاریخ میں پہلی بار اپنی بلند ترین شرح کو چھو رہی ہے۔ اس کے باوجود بھی اسامیوں کو پر رکھنے میں ناکامی کی وجہ اسی پرسنالٹی ٹیسٹ کا انعقاد ہے جس کی وجہ سے بہترین امیدوار چھانٹنا تو ممکن ہے تاہم امریکیوں کی بڑی تعداد اس ٹیسٹ کے معیار پر پورا اترنے میں ہی ناکام ہے جس کی وجہ سے اکثریت اس ٹیسٹ کو پاس کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے۔ اس کمپنی سے وابستہ منیجر کا کہنا ہے کہ آن لائن ٹیسٹ کی وجہ سے نوکری کیلئے بہترین امیدوار منتخب کئے جانے والے افراد کی تعداد بے حد کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے کمپنی کیلئے امیدواروں میں سے بہترین کا انتخاب کرنا آسان ہے۔ یہ ٹیسٹ آن لائن دیا جاتا ہے۔
نوکریوں کیلئے پرسنالٹی ٹیسٹ کا استعمال امریکہ میں کوئی نئی بات نہیں ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ جب امریکہ بھر میں اس قدر بڑے پیمانے پر کمپنیز کی جانب سے اس ٹیسٹ کو استعمال کیا جارہا ہے۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے نوکری کیلئے دی جانے والی درخواست کی ایک سافٹ ویئر کی مدد سے جانچ کی جاتی ہے۔ اس ٹیسٹ کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ میں نجی شعبے میں ملازمین فراہم کرنے والی دس بڑی کمپنیوں میں سے آٹھ اسی ٹیسٹ کے سہارے اپنے ملازمین کا انتخاب کررہی ہیں۔ سال2001میں صرف26فیصد امریکی کمپنیز اس ٹیسٹ کا سہارا لیتی تھیں جبکہ2013تک اس ٹیسٹ کو استعمال کرنے والی کمپنیز کی تعدا57 فیصد ہوچکی تھی۔ گزشتہ ایک دہائی میں آنے والی یہ تبدیلی دراصل اس امر کی جانب بھی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی کمپنیز میں ملازمین کے انتخاب کا معاملہ اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی سے لیا جانے لگا ہے۔
اس ٹیسٹ کی آمد کے حوالے سے اعداد و شمار کے جائزے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب امریکہ میں نوکری پانا بے حد مشکل ہوچکا ہے اور عوام کی بڑی تعداد بیروزگار ہے تاہم ایسا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں فی الوقت دستیاب نوکریوں اور بھرتیوں کے بیچ فرق سب سے کم ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس فرق میں پچیس فیصد تک کمی آئی ہے۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں یہ اندازہ قائم کیا جاسکتا ہے کہ اب امریکہ میں نوکری پانے کیلئے محض اچھے ادارے سے پرکشش ڈگری کی ہی ضرورت نہیں ہے بلکہ پرسنالٹی ٹیسٹ کو کلیئر کرنے کی تیاری بھی کرنا ہوگی تاکہ خود کو امریکیوں کے مقابلے میں نوکری کیلئے یکساں حقدار ثابت کیا جاسکے۔
امریکہ میں بھی پرسنالٹی ٹیسٹ کی بنیاد پر نوکریاں دینے کا رواج
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
امریکی ویزا کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے بڑا اعلان
-
وزیراعظم شہباز شریف کے آموں کے تحفے پر ہنگری کے وزیراعظم کا دلچسپ پیغام
-
کون سا پاکستانی شہری اب ملک میں داخل نہیں ہو سکے گا؟ ہوائی اڈوں کو ہدایات جاری
-
بھارت و افغانستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے، افغان وزیر کو کہنا مہنگا پڑ گیا
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
-
لاہور میں فیکٹری مالک کو انسپکشن کیلئے آنے اسسٹنٹ کمشنر سے تعارف پوچھنا مہنگا پڑ گیا
-
وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان، نئے نام زیر غور
-
750 روپے مالیت کے پرائز بانڈ رکھنے والوں کیلئے خوشخبری
-
سعودی عرب کا نیا “پیکیج ویزا” متعارف، پاکستان سمیت 7 ممالک کے شہری مستفید ہوں گے
-
سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی،فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
-
پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)
-
5 سالہ سروس مکمل کرنے والے ملازمین کے لئے اہم خبر آگئی
-
عمران ہاشمی سے ملائی جانے والی سحر ہاشمی کا رد عمل سامنے آگیا
-
دنیا کے امیر ترین ممالک کون سے ہیں؟ نئی عالمی رپورٹ سامنے آگئی



















































