جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اپنے مو بائل فون چوری ہونے سے بچائیں

datetime 10  مارچ‬‮  2015 |

لاہور( نیوزڈیسک) ملک کرائم کی وجہ سے آپ یا آپ کا کوئی عزیز، دوست کبھی نہ کبھی موبائل فون سے محروم ہو چکا ہو گا اور آئے روز سمارٹ فون اور موبائلوں کی چوریوں اور فراڈ کے عجیب وغریب طریقے سامنے آ رہے ہیں۔ موبائل چوری یا ڈکیتی کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے ) نے آئی ایم ای آئی نمبر کے ذریعے چوری شدہ فون بلاک کرنے کا طریقہ وضع کیا۔ کمپنی ہر سمارٹ فون اور موبائل کو یہ مخصوص نمبر الاٹ کرتی ہے لہٰذا نیا فون خریدتے ہی یہ نمبر کسی کاغذ پر لکھ کر محفوظ کر لیںکیونکہ اس کے چوری ہونے پر آئی ایم ای آئی کی ضرورت پڑے گی یا اپنے فون پر #06# یا #0000#*ڈائل کر کے اس کا یہ نمبر حاصل کر سکتے ہیں، خدانخواستہ کسی بھی واردات کا نشانہ بن جائیں تو سب سے پولیس میں اس کی رپورٹ درج کرانے کی سر توڑ کوشش کریں، شاید کامیاب ہو جائیں۔ رپورٹ درج ہونے کے بعد پی ٹی اے کے ٹول فری نمبر 55055-0800پہ اپنے موبائل یا سمارٹ فون چوری کی اطلاع دیجیے۔ آپ پی ٹی سی کی ای میل پر بھی یہ اطلاع بھجوا سکتے ہیں۔ کراچی کے شہریوں کو سی پی ایل سی کی سہولت بھی حاصل ہے۔ وہ اس ادارے سے بھی رابطہ کر کے موبائل چوری کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ شکایات درج ہونے کے باوجود اگرآپ کاموبائل آپ کو نہ بھی ملے تو ان اقدامات سے یہ یقینی ہو گا کہ چور آپ کا موبائل یا سمارٹ فون آزادی سے استعمال یا فروخت نہیں کر سکتا۔ یہ عمل دقت طلب اور کچھ پیچیدہ ہے تاہم اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ نیز بحیثیت ذمہ دار شہری ہمارا فرض ہے کہ ہر جرم کی رپورٹ درج کرائیں اور یوں جرائم کی روک تھام میں آسانی ہوتی ہے۔ مزید براں جب بھی آپ نیا خصوصاً سیکنڈ ہینڈ موبائل یا سمارٹ فون خریدیئے تو پی ٹی اے کی ویب سائٹ پہ دستیاب آئی ایم ای آئی سرچ میں اس کا نمبر ڈال کے تصدیق کر لیجیے کہ وہ چوری شدہ تو نہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…