اسلا م آباد(نیوزڈیسک) لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حکومتی اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دونوں بارز نے مجوزہ اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار کے مشترکہ اجلاس میں وکلا رہنماؤں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حکومتی مؤقف پر تشویش ظاہر کی۔ اجلاس کے دوران اعلان کیا گیا کہ اس معاملے پر وفاقی حکومت کے فیصلے کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا جائے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر حامد خان نے بتایا کہ ایکشن کمیٹی کا اجلاس اگلے روز کراچی میں منعقد ہوگا، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے سہیل آفریدی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ اصل اہمیت عہدوں کی نہیں بلکہ جدوجہد اور اصولوں کی ہوتی ہے۔حامد خان کا کہنا تھا کہ آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی بحالی تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
انہوں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ قومی مسائل کے حل کے لیے بنیادی معاملات پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔مشترکہ اجلاس سے خطاب میں قانون دان رائے محمد علی نے 2009 میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک اس وقت بھی یہ اقدامات غیر قانونی اور غیر آئینی تھے اور موجودہ حالات میں بھی ایسا کوئی اقدام آئین کے مطابق نہیں ہوگا۔لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار کی جانب سے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سے متعلق جاری سیاسی اور قانونی بحث میں ایک اہم پیش رفت ہے۔



















































