پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سویلین کا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل ہوسکتا ہے یا نہیں؟بڑے سوال کا بڑا جواب مل گیا

datetime 17  مئی‬‮  2023 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے کہا کہ فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے والے سویلین کا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل ہوسکتا ہے۔

سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کامران مرتضیٰ نے کہا کہ میں نے کل بھی فوجی عدالتوں کی مخالفت کی تھی آج بھی ،مخالف ہوں، 9مئی کو بہت برا ہوا اس کے ذمہ داروں کا سول عدالتوں میں ٹرائل ہونا چاہئے۔سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل شاہ خاور نے کہا کہ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں نے 9مئی کو پرتشدد مظاہروں میں شرکت نہیں کی، پی ٹی آئی کو یہ حملے کرنے والوں کا دفاع نہیں کرنا چاہئے۔

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے کہا کہ کور کمانڈر ہاؤس اور فوجی تنصیبات پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں، ذمہ داروں کو فیئر ٹرائل کے بعد سخت سزا ملنی چاہئے،فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے والے سویلین کا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل ہوسکتا ہے، 2017ء میں اس حوالے سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کردی گئی تھی، آئین ہر سویلین کو فیئر ٹرائل کا حق فراہم کرتا ہے، مجھے نہیں لگتا فوجی عدالتوں میں سویلین کا شفاف ٹرائل ممکن ہے، سابق چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار سیٹھ نے فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزائیں کالعدم قرار دیدی تھیں، سپریم کورٹ کے کئی فیصلے ہیں جس میں فوجی عدالتوں کے فیصلوں کا جوڈیشل ریویو کیا گیا ہے، سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں انسداد دہشتگردی عدالتوں میں ہونا چاہئے، ادریس خٹک نے جیوڈیشل ریویو کیلئے اپلائی کیا ہے تو عدالتوں کو سننا چاہئے۔

عابد زبیری کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں صدر یا پارلیمنٹ بڑھاتے ہیں، چیف جسٹس کی تنخواہ پارلیمنٹ نے فکس کی ہے وہ شکایت نہیں کرسکتی، پاکستان میں رول آف لاء ختم ہوگیا ہے، دفعہ 144کے باوجود سپریم کورٹ کے باہر پی ڈی ایم کے جلسہ ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…