پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی ڈگری جعلی ہونے کا انکشاف

datetime 13  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی یونیورسٹی نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی ڈگری کی تصدیق نہیں کی، خالد خورشید کے وکیل کا کہنا ہے کہ ڈگری جعلی نہیں؛ صرف بار کونسل ہی قانونی طور پر وکلاء کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کر سکتی ہے۔ جنگ اخبار میں قاسم عباسی کی خبر  کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے اپنے کاغذات نامزدگی میں مبینہ طور پر یونیورسٹی آف لندن کی جعلی ڈگری منسلک کر دی۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے خالد خورشید کی ڈگری کی تصدیق کے لیے یونیورسٹی آف لندن سے باضابطہ درخواست کی جسے معروف ادارے نے جواب میں جعلی قرار دیا۔ باخبر سرکاری ذرائع نے انکشاف کیا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو نہ صرف فوری طور پر ان کے عہدے سے نااہل قرار دیا جائے گا بلکہ حکام ان کے خلاف فوجداری کارروائی بھی شروع کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی ان کی ڈگری کی منسوخی کے لیے خط کا مسودہ تیار کر رہا ہے اور مسودہ جانچ کے لیے شیئر کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی اور حکومت پاکستان سے دھوکہ دہی پر ان کے خلاف فوری طور پر نااہلی اور فوجداری کارروائی شروع کی جائے گی۔ایچ ای سی کے خط کے جواب میں یونیورسٹی آف لندن نے لکھا کہ میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ لفافہ اور اس کا مواد (ڈگری سرٹیفکیٹ کی کاپی، سرٹیفیکیشن کا خط اور ٹرانسکرپٹ) یونیورسٹی آف لندن نے جاری نہیں کیا۔ اس نمائندے کے بھیجے گئے سوالات کے جواب میں وزیراعلیٰ کی قانونی ٹیم کے رکن یاسر عباس نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے سیاسی مخالفین گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے وزیراعلیٰ کی تعلیمی اسناد کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے لندن یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور اس کی صحیح طور پر تصدیق کی گئی ہے اور ایچ ای سی کی جانب سے اس کے لیے مساوی دستاویز (equivalence) پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی جانب سے گلگت بلتستان چیف کورٹ میں بے بنیاد پروپیگنڈے کا مقابلہ کیا گیا ہے اور ان کے تعلیمی ریکارڈ کی گلگت بلتستان بار کونسل نے بھی گلگت بلتستان چیف کورٹ میں اپنے بیان کے ذریعے توثیق کی ہے۔

یاسر عباس نے کہا کہ گلگت بلتستان بار کونسل بار کے اندراج کے ریکارڈ کی واحد نگہبان ہے۔ اس کے پاس وکالت کی تعلیمی اسناد کی قانونی طور پر تصدیق کرنے کا واحد مینڈیٹ ہے۔ اگر ضروری ہو تو معزز عدالت سے مزید تصدیق کی جا سکتی ہے۔ یاسر نے مزید کہا کہ انتہائی اہم اور تشویشناک بات یہ ہے کہ بار کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر نے انہیں مجبور کرنے کی کوشش کی اور بار کونسل کا ریکارڈ تبدیل کرنے کی پیشکش کی۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ مدعا علیہان یعنی سیاسی مخالفین نے متعدد مواقع پر عدالتی کارروائی سے بچنے کی کوشش کی۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اس پروپیگنڈے کے مرتکب افراد کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ ڈگری منسلک کرنے کی کوئی شرط نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…