اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف مشن کی آمد، حکومت پٹرول مزید کتنا مہنگا کرسکتی ہے؟پاکستانیوں کے لیے بری خبر

datetime 30  جنوری‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آئی ایم ایف مشن کی آمد، حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرا دیا، آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کے کل سے پاکستان کے دورے سے عین قبل حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 35 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں 18 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے جس کا اطلاق اتوار کی صبح 11 بجے سے ہو گیا۔

حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) میں 5 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے، اس طرح پی ڈی ایل اب 40 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے۔روزنامہ جنگ میں مہتاب حیدر کی خبر کے مطابق حکومت کے پاس ابھی بھی 10روپے فی لیٹر جگہ دستیاب ہے جس میں آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ پی ڈی ایل کو 50 روپے فی لیٹر تک بڑھایا جاسکے۔اب مقامی مارکیٹ میں ایم ایس پیٹرول کی قیمت 35 روپے فی لیٹر کے اضافے سے 249.40 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ ایچ ایس ڈی کی قیمت بڑھ کر 262.80 روپے فی لیٹر ہو گئی جبکہ پہلے کی قیمت 227.80 روپے فی لیٹر تھی۔اس بات کا کم و بیش اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایم ایس پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ذریعے پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے تین دن پہلے اعلان کے اثر سے حکومت اضافی 4.5 ارب روپے کمالے گی۔حکومت پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی کی موجودہ شرح سے روزانہ کی بنیاد پر 1.5 ارب روپے کماتی ہے۔ عجلت میں کی گئی ٹیلی ویژن نشریات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار صبح 11 بجے سے صرف پانچ منٹ پہلے آئے اور کہا کہ سوشل میڈیا پر پی او ایل کی قیمتوں میں 47 روپے سے 85 روپے فی لیٹر تک اضافے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں پی او ایل مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…