اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

انگور کون سے موذی مرض سے بچانے میں مددگار ہے، ماہرین کی رپورٹ میں انکشاف

datetime 29  جنوری‬‮  2023 |

نیویارک(این این آئی )ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یومیہ انگور کھانے سے جلد کی تیزابیت یا سورج کی روشنی میں جسم جلنے کے مسئلے سے بچا جا سکتا ہے۔جلد کی تیزابیت یا جسم کے دھوپ میں جلنے کو انگریزی میں سن برن کہتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق سن برن کا مسئلہ سورج کی

الٹرا وائلٹ (یو وی)یا شعاوں سے جلد کو جلانے سے پیدا ہوتا ہے اور سورج کی روشنی یا شعاوں سے جلد کے جلنے کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔امریکا اور یورپی ممالک میں سالانہ لاکھوں افراد کو ان ہی مسائل کی وجہ سے جلد کی کینسر لاحق ہوجاتی ہے اور وہاں کے لوگ سورج کی تپش سے بچنے کے لیے مختلف طریقے آزماتے ہیں۔وہاں ماہرین نے انگوروں کے جلد کی جلن پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک محدود تحقیق کی، جس کے لیے انہوں نے تین درجن افراد کی خدمات حاصل کیں۔امریکی ماہرین نے جلد کی جلن پر انگوروں کے اثرات جاننے کے لیے 24 سے تقریبا 56 سال کی عمر 36 رضاکاروں کی خدمات حاصل کیں، جس میں سے 7 افراد تحقیق کو ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔بعد ازاں ماہرین نے رہ جانے والے 29 رضاکاروں پر تحقیق کی اور انہیں دو ہفتوں تک یومیہ تقریبا 400 گرام انگور کھانے کا کہا گیا۔تحقیق میں شامل 16 مرد اور 15 خواتین میں سے نصف کو دو ہفتوں تک مختلف یعنی سرخ، گلابی، جامنی اور ہرے انگور کھانے کی ہدایت کرنے سے قبل انہیں دیگر متعدد غذائیں کھانے سے روکا گیا اور ان کے مختلف ٹیسٹس بھی کیے گئے جب کہ ان کی جلد پر شعاوں کو برداشت کرنے کی حساسیت بھی چیک کی گئی۔ماہرین نے دو ہفتوں بعد تمام رضاکاروں کے ٹیسٹس کیے، ان کے خون کے نمونے، پیشاب اور پاخانے کے ٹیسٹ بھی کیے گئے جب کہ ان کی جلد میں شعاوں کی حساسیت کو بھی چیک کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ یومیہ تقریبا 400 گرام انگور کھانے والے افراد کے جلد کی حساسیت بڑھ گئی تھی اور وہ سورج کی متوسط تپش کو زیادہ دیر تک برداشت کرنے کے قابل ہوگئے تھے

اور انہیں کسی طرح کی جلد یا گرمائش کا احساس نہیں ہوا۔جب کہ ایسے افراد کے خون، پیشاب اور پاخانے کے ٹیسٹس بھی کم انگور کھانے والے افراد کے مقابلے زیادہ بہتر آئے۔ماہرین نے تجویز دی کہ جلد کی جلن جیسے مسائل سے دوچار افراد یومیہ 380 سے 400 گرام انگور کھائیں

تو ان کی جلد سورج کی تپش کو برداشت کرنے کے اہل ہوجائے گی۔ماہرین نے کہا کہ مذکورہ معاملے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم انگوروں کو یومیہ غذا بنانے سے دیگر بھی کئی طرح کے طبی فوائد ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…