اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پیسے دینے سے سعودی انکار نے حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا

datetime 28  جنوری‬‮  2023 |

کراچی ( این این آئی) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں شاید ہی کوئی وزیر خزانہ ایسا گزرا ہو جس نے آئی ایم ایف کے خلاف بڑھکیں مار نے کے بعد اس ادارے کے پیر نہ پکڑے ہوں۔

آئی ایم ایف کے خلاف بیانا ت سے اس ادارے کا توکچھ نہیں بگڑتا مگرہمیں خفت کا سامنا ضرورکرنا پڑتا ہے۔ پروگرام پرعملدرآمد میں تاخیر کی قیمت ملک اورعوام ادا کرتی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تمام وزرائے خزانہ ہمیشہ عالمی ادارے کے بغیرملک چلانے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر حقیقی معاشی اصلاحات سے پہلو تہی کی جاتی ہے جس سے معیشت کا تیا پانچا ہو جاتا ہے شرائط نہ ماننے سے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے میں تاخیر ہو جاتی ہے اور قرض ملنے کے بعد طے شدہ پروگرام پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا جس سے عدم اعتماد بڑھتا ہے۔ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کر لینی چائیے کہ آئی ایم ایف کسی ملک کو قرض دینے کی درخواست نہیں کرتا بلکہ مشکلات سے دوچار ممالک ہی قرض کے لئے اس کی منتیں کرتے ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی مزید قرضہ دینے کے بجائے اصلاحات کرنے کی نصیحت کر کے پاکستان پراحسان کیا ہے جس سے حکومت کو صورتحال کے سنگین ہونے کا احساس ہوا اور انھوں نے آئی ایم ایف سے رابطے بحال کرتے ہوئے انکی تمام شرائط ماننے پرآمادگی ظاہرکی جس سے پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں 30 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے اور ابھی مزید اضافہ متوقع ہے مگر اس سے ایکسپورٹ، ترسیلات زر اور ایف بی آر کے محصولات میں اضافہ ہوگا۔

آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے قرض کے حصول اور قرضوں کے رول اوور میں حائل رکاوٹیں ختم ہوں گی، عمومی مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس کی قیمتوں، مارک اپ اور قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوگا مگر موجودہ صورتحال میں یہ سب ناگزیر ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں کسی سیاسی پارٹی یا آمریت کی حکومت ہو، کوئی بھی اصلاحات نہیں کر سکا۔ کوئی حکومت نہ ہی اشرافیہ کو دی گئی مراعات ختم کرتی ہے نہ سبسڈی ختم کی جاتی ہے۔ بجلی، گیس، انرجی پالیسی، ناکام اداروں کے نقصانات جاری رکھنا اور ڈالر کی قدر کو انتظامی طور پرکم کرنے کی ناکام کوششیں بھی ملکی معیشت کا بیڑاغرق کرتی رہتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…