جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

پیسے دینے سے سعودی انکار نے حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا

datetime 28  جنوری‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی ( این این آئی) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں شاید ہی کوئی وزیر خزانہ ایسا گزرا ہو جس نے آئی ایم ایف کے خلاف بڑھکیں مار نے کے بعد اس ادارے کے پیر نہ پکڑے ہوں۔

آئی ایم ایف کے خلاف بیانا ت سے اس ادارے کا توکچھ نہیں بگڑتا مگرہمیں خفت کا سامنا ضرورکرنا پڑتا ہے۔ پروگرام پرعملدرآمد میں تاخیر کی قیمت ملک اورعوام ادا کرتی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تمام وزرائے خزانہ ہمیشہ عالمی ادارے کے بغیرملک چلانے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر حقیقی معاشی اصلاحات سے پہلو تہی کی جاتی ہے جس سے معیشت کا تیا پانچا ہو جاتا ہے شرائط نہ ماننے سے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے میں تاخیر ہو جاتی ہے اور قرض ملنے کے بعد طے شدہ پروگرام پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا جس سے عدم اعتماد بڑھتا ہے۔ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کر لینی چائیے کہ آئی ایم ایف کسی ملک کو قرض دینے کی درخواست نہیں کرتا بلکہ مشکلات سے دوچار ممالک ہی قرض کے لئے اس کی منتیں کرتے ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی مزید قرضہ دینے کے بجائے اصلاحات کرنے کی نصیحت کر کے پاکستان پراحسان کیا ہے جس سے حکومت کو صورتحال کے سنگین ہونے کا احساس ہوا اور انھوں نے آئی ایم ایف سے رابطے بحال کرتے ہوئے انکی تمام شرائط ماننے پرآمادگی ظاہرکی جس سے پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں 30 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے اور ابھی مزید اضافہ متوقع ہے مگر اس سے ایکسپورٹ، ترسیلات زر اور ایف بی آر کے محصولات میں اضافہ ہوگا۔

آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے قرض کے حصول اور قرضوں کے رول اوور میں حائل رکاوٹیں ختم ہوں گی، عمومی مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس کی قیمتوں، مارک اپ اور قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوگا مگر موجودہ صورتحال میں یہ سب ناگزیر ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں کسی سیاسی پارٹی یا آمریت کی حکومت ہو، کوئی بھی اصلاحات نہیں کر سکا۔ کوئی حکومت نہ ہی اشرافیہ کو دی گئی مراعات ختم کرتی ہے نہ سبسڈی ختم کی جاتی ہے۔ بجلی، گیس، انرجی پالیسی، ناکام اداروں کے نقصانات جاری رکھنا اور ڈالر کی قدر کو انتظامی طور پرکم کرنے کی ناکام کوششیں بھی ملکی معیشت کا بیڑاغرق کرتی رہتی ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…