جمعرات‬‮ ، 14 مئی‬‮‬‮ 2026 

کلبھوشن کیس،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کیلئے بھارت کو ایک اور موقع دیدیا

datetime 5  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ میں کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے بھارت کو عدالتی معاونت کا ایک اور موقع فراہم کردیا گیا۔عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جہاں

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان پیش ہوئے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل نے ایک متفرق درخواست دائر کی، اس درخواست سے لگتا ہے کہ بھارت کو اس عدالت کی کارروائی سے متعلق کوئی غلط فہمی ہے۔انہوںنے کہاکہ کیا بھارت عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کو تیار نہیں ہے، بادی النظر میں لگ تو کچھ ایسا ہی رہا ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بھارت نے پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا ہے اور مؤقف اپنایا ہے کہ پاکستانی عدالتوں میں پیش ہونا ان کی خودمختاری کے خلاف ہے۔انہوںنے کہاکہ بھارت نے چار دیگر قیدیوں کے کیس میں اسی عدالت سے رجوع کیا، کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کو خودمختاری کا اعتراض ہے تو دیگر قیدیوں کے کیس میں کیوں نہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ بھارت اپنا نمائندہ مقرر کر کے اس عدالت کو یہ بتا دے کہ وہ کیا چاہتا ہے، بھارت کی خودمختاری پر قطعاً کوئی شک نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بھارت اتنی معاونت کر دے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کیسے کرانا ہے، اس کیس میں بھارت کی خودمختاری کا تو سوال ہی نہیں۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس عدالت کے تمام احکامات کمانڈر کلبھوشن یادیو تک پہنچائے گئے تاہم وہ اب تک

اپنے موقف پر قائم ہے کہ اس نے عدالت سے رجوع نہیں کرنا۔بعد ازاں عدالت نے معاون حامد خان کو روسٹرم پر بلا لیا۔حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پاکستان کو کلبھوشن کو وکیل فراہم کرنے کیلئے خود عدالت آنے کی ضرورت نہیں تھی۔انہوںنے کہاکہ فوجی عدالت کا فیصلہ چیلنج کیا جا سکتا ہے، حکومت پاکستان کو سراہتے ہیں کہ

انہوں نے بھارت اور بھارتی شہری کو فائدہ پہنچایا۔اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں حامد خان کی بات سے اختلاف کرتا ہوں کہ حکومت کو عدالت نہیں آنا چاہیے تھا۔انہوںنے کہاکہ اگر حکومت پاکستان عدالت نہ آتی تو اس وقت عالمی عدالت انصاف میں توہین عدالت کی سماعت چل رہی ہوتی۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کو پاکستانیوں کے

قاتل سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ ہم بھارتی حکومت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں تاہم بھارت اس عدالت میں سماعت ختم ہونے کے انتظار میں ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت انتظار میں ہے کہ یہ سماعت ختم ہو تو بھارت عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرے۔بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے بھارت کو عدالتی معاونت کا ایک اور موقع فراہم کیا اور بھارتی ہائی کمیشن سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 جون تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…