این اے 249 ضمنی الیکشن،پی ٹی آئی ٹکٹ کے لئے 10 امیدوار سرگرم ہوگئے

  منگل‬‮ 9 مارچ‬‮ 2021  |  10:05

کراچی (این این آئی)قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 کے ضمنی انتخاب کیلئے حکمران جماعت تحریک انصاف کے ٹکٹ کے لیے کئی لوگ متحرک ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کے استعفیٰ کے بعد خالی ہونے والی نشست این اے 249 پر پی ٹی آئی ٹکٹ کیلئے 10 سے زائد امیدوار سرگرم ہیں۔ذرائع کے مطابق این اے 249 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے خواہشمندوں کی فہرست میں امجد آفریدی، سبحان علی ساحل، عرفان نیازی، عزیز آفریدی شامل ہیں۔قومی اسمبلی کے اس حلقے سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر انتخابی


میدان میں اترنے کی دوڑ میں طارق نیازی، عبدالرحمٰن، ملک شہزاد اعوان اور مولانا عصمت نیازی بھی شامل ہیں۔دوسری طرف تحریک انصاف نے این اے 249 میں ضمنی الیکشن کے معاملے پر پارٹی جنرل سیکریٹری ارشد داد کی سربراہی میں 5 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔اعلامیے کے مطابق تحریک انصاف کے بورڈ میں وفاقی وزیر علی زیدی، فردوس شمیم نقوی، خرم شیر زمان اور سعید آفریدی شامل ہیں۔پی ٹی آئی نے این اے 249 کراچی سے پارٹی ٹکٹ خواہشمندوں سے درخواستیں مانگ لی ہیں اور ساتھ ہی تاکید کی ہے کہ درخواست 10 مارچ سے قبل جمع کرائی جائے۔دوسری طرف اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نے بھی این اے 249 کراچی کے ضمنی الیکشن کے لیے خواہشمندوں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) این اے 249 کراچی کے ضمنی الیکشن میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو اپنا امیدوار بنائے گی۔یاد رہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں اس نشست پر فیصل واوڈا نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو صرف 723 ووٹوں سے شکست دی تھی۔فیصل واوڈا نے 35 ہزار 349، میاں شہباز شریف نے 34 ہزار626 اور تحریک لبیک کے عابد حسین نے 23 ہزار 981 ووٹ لیے تھے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎