بدھ‬‮ ، 21 جنوری‬‮ 2026 

ہزارہ برادری کے دھرنے کے مطالبات میں 8ویں مطالبے سے متعلق وضاحت کی جائے ،بلال شہید کے والد نے ویڈیو پیغام میں اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ خود سوزی کی دھمکی دیدی

datetime 7  جنوری‬‮  2021 |

کوئٹہ(آن لائن)شہید بلال نورزئی کے والد شراف الدین خان نورزئی نے ہزارہ برادری کے دھرنے کے مطالبات میں 8ویں مطالبے سے متعلق وضاحت کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ایف آئی آر میں نامزد دہشتگردوں کی رہائی کامطالبہ دہشتگردوں کی پشت پناہی کے مترادف ہے،حکومت،عدلیہ سمیت تمام ادارے ہمارے لئے قابل احترام ہے

اگر بے دردی سے قتل کئے گئے بلال شہید کے قاتلوں کو رہا کیا گیا تو میں گورنرہاؤس یا بلوچستان ہائی کورٹ کے سامنے اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ خودسوزی کروں گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے ایک ویڈیوپیغام میں کیا۔ پیغام میں شہید بلال نورزئی کے والد شراف الدین نورزئی نے وزیراعظم عمران خان اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے اپیل کی کہ شہید بلال کے والدین پر کیا گزرتی ہے جب سارا دن بلال کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کررہے تھے،تمام سیاسی جماعتیں دھرنے کے منتظمین سے دریافت کرے کہ مطالبات میں شامل 8واں مطالبہ کس بنیاد پر ڈالا گیاہے،جب نامزد ملزمان جنہوں نے اقبال جرم بھی کیاہے اور مطالبہ کیاجارہاہے کہ ایسے مجرمان جنہوں نے بے دردی سے میرے بیٹے کو شہید کردیا کو رہا کیاجائے،میں قطعاََ اس کی اجازت نہیں دوں گا دنیا کی تاریخ میں کہیں بھی ایسا مثال نہیں ملتا جہاں سینکڑوں لوگوں نے بے دردی سے بلال کو قتل کردیا انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کی رہائی کامطالبہ کیاجارہاہے وہ دہشتگرد ہیں اور دہشتگردوں کی رہائی کامطالبہ دہشتگردوں کی پشت پناہی کے مترادف ہے،اگر دھرنے کے منتظمین کا8واں مطالبہ تسلیم کرلیا گیا تو میں میری اہلیہ بچوں سمیت گورنر ہاؤس یا بلوچستان ہائی کورٹ کے سامنے خود پر پیٹرول چھڑک کرآگ لگالیں گے،انہوں نے کہاکہ ہم قانون

اور تمام اداروں کااحترام کرتے ہیں ہم نے حکومت اور اداروں پر بھروسہ کیاہے گزشتہ 7ماہ سے انصاف کی امید لگائے بیٹھا ہوں،ہمارا کوئی دوسرا مطالبہ نہیں ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے کہ بلال شہید کے قتل میں ملوث ملزمان کو کیفر کردارتک پہنچائیں،ہم نے کوئٹہ شہر کو آگ سے بچایا ہے اور اپنے دل کے ٹکڑے کو قربان کیاہے،ہمیں بتایاگیاکہ قاتل گرفتار ہوچکے ہیں

میں ہمیشہ حکومت کاساتھ دیا ہمارے دھرنے کے دوران کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔اگر قاتل چھوٹ جاتے ہیں تو پھر نہ قانون نہ عدلیہ اور نہ ہی اداروں کا احترام رہے گا لوگ سڑکوں پر لاشیں رکھ کرکے اپنے مطالبات منوائیں گے،انہوں نے صوبائی حکومت سمیت تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں سے اپیل کی کہ مطالبات میں شامل 8ویں مطالبے سے متعلق وضاحت طلب کی جائے

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…