پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

جب چیف جسٹس پارلیمنٹ آسکتے ہیں تو چیئرمین نیب کیوں نہیں،انہیں پارلیمنٹ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہی پڑے گا،تہلکہ خیز بات کردی گئی

datetime 22  دسمبر‬‮  2020 |

سکھر(این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے جب چیف جسٹس پارلیمنٹ آسکتے ہیں تو چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہی پڑے گا اگر وہ پارلیمنٹ میں پیش نہ ہوئے تو ملک میں ایک نیا مسئلہ پیدا ہوجائے گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھرمیں احتساب عدالت میں پیش ہونے کے بعد میڈیا

سے گفتگو کرتے ہوئے کیا سید خورشید شاہ نے مزید کہا کہ عمران خان اپوزیشن سے سرے سے بات کرنا ہی نہیں چاہتے اس لیے اپوزیشن تحریک چلانے پر مجبور ہے حالانکہ جب شملہ اور کارگل جیسے معاملات پر بات ہوسکتی ہے تو پھر یہاں اپوزیشن سے بات کیوں نہیں ہوسکتی ان کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج اپوزیشن کا حق ہے لیکن حکومت اسے خرابی کی طرف لے جارہی ہے عمران خان نے تو کہا تھا کہ اپوزیشن احتجاج کرے وہ کنٹینٹر بھی دیں گے اور کھانا بھی تو یہاں تو اپوزیشن کو احتجاج کرنے پر لاٹھیاں پڑی ہیں اور ان پر پانی پھینکا گیاہے میں تو اب بھی کہتا ہوں کہ مذاکرات اور پارلیمنٹ بہتر راستہ ہے مسائل حل کرنے کا پارلیمنٹ کو سپریم بنایا جائے تو تمام۔مسائل خود بخود حل ہوسکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ استیعفیمعاملے کا حل نہیں ہے میں نے اپنا استعفے اپنی قیادت کو پیش کردیا ہیان کا کہنا تھا کہ فاروق ایچ نائیک نے نیب قوانین کے حوالے سے جو ڈسکس لیٹر دیا تھا اسی کو عمران خان لہرا کر کہتے ہیں کہ این آر او نہیں دوں گا لیکن وہ بتانہیں سکتے ہیں کہ این آر او کی ضرورت کس کو ہے اور این آر ؤ دینے کا اختیار ان کے پاس ہے ہی نہیں قوم اس بات کو سمجھے ملک میں جتنی کرپشن اڑھائی سال میں ہوئی یے اتنی ستر سال میں نہیں ہوئی ہے ریکارڈ قرضے لیے گئے ہیں ان لے جھوٹ کی وجہ سے ہمارے دوست ممالک سعودی عربیہ ،یق اے ای و دیگر ہمارا ساتھ چھوڑ گئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ مجھے عوامی مسائل حل عر ان کی بات ایوان میں کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…