بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

جب چیف جسٹس پارلیمنٹ آسکتے ہیں تو چیئرمین نیب کیوں نہیں،انہیں پارلیمنٹ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہی پڑے گا،تہلکہ خیز بات کردی گئی

datetime 22  دسمبر‬‮  2020 |

سکھر(این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے جب چیف جسٹس پارلیمنٹ آسکتے ہیں تو چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہی پڑے گا اگر وہ پارلیمنٹ میں پیش نہ ہوئے تو ملک میں ایک نیا مسئلہ پیدا ہوجائے گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھرمیں احتساب عدالت میں پیش ہونے کے بعد میڈیا

سے گفتگو کرتے ہوئے کیا سید خورشید شاہ نے مزید کہا کہ عمران خان اپوزیشن سے سرے سے بات کرنا ہی نہیں چاہتے اس لیے اپوزیشن تحریک چلانے پر مجبور ہے حالانکہ جب شملہ اور کارگل جیسے معاملات پر بات ہوسکتی ہے تو پھر یہاں اپوزیشن سے بات کیوں نہیں ہوسکتی ان کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج اپوزیشن کا حق ہے لیکن حکومت اسے خرابی کی طرف لے جارہی ہے عمران خان نے تو کہا تھا کہ اپوزیشن احتجاج کرے وہ کنٹینٹر بھی دیں گے اور کھانا بھی تو یہاں تو اپوزیشن کو احتجاج کرنے پر لاٹھیاں پڑی ہیں اور ان پر پانی پھینکا گیاہے میں تو اب بھی کہتا ہوں کہ مذاکرات اور پارلیمنٹ بہتر راستہ ہے مسائل حل کرنے کا پارلیمنٹ کو سپریم بنایا جائے تو تمام۔مسائل خود بخود حل ہوسکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ استیعفیمعاملے کا حل نہیں ہے میں نے اپنا استعفے اپنی قیادت کو پیش کردیا ہیان کا کہنا تھا کہ فاروق ایچ نائیک نے نیب قوانین کے حوالے سے جو ڈسکس لیٹر دیا تھا اسی کو عمران خان لہرا کر کہتے ہیں کہ این آر او نہیں دوں گا لیکن وہ بتانہیں سکتے ہیں کہ این آر او کی ضرورت کس کو ہے اور این آر ؤ دینے کا اختیار ان کے پاس ہے ہی نہیں قوم اس بات کو سمجھے ملک میں جتنی کرپشن اڑھائی سال میں ہوئی یے اتنی ستر سال میں نہیں ہوئی ہے ریکارڈ قرضے لیے گئے ہیں ان لے جھوٹ کی وجہ سے ہمارے دوست ممالک سعودی عربیہ ،یق اے ای و دیگر ہمارا ساتھ چھوڑ گئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ مجھے عوامی مسائل حل عر ان کی بات ایوان میں کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔

موضوعات:



کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…