اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

اب بجلی کے یونٹس کی اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی طرح خرید و فروخت کی جا سکے گی، منظوری دے دی گئی

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے اسٹاک ایکسچینج – مسابقتی تجارت کے مشترکہ کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے 18 ماہ کے روڈ میپ کی منظوری دے دی تاکہ بجلی کی مارکیٹ میں موجودہ (واحد خریدار) کو تبدیل کرکے ایک آزاد متعدد خریداروں کا ماحول قائم کیا جاسکے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بجلی پیدا

کرنے والے اور خریداروں کو مارکیٹ آپریٹر (ایم او) اور اسپیشل پرپز ٹریڈر ٹریڈر (ایس پی ٹی)، سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی، کے ذریعہ حاصل کرنے اور ادا کرنے کی بنیاد پر بجلی خریدنے اور فروخت کرنے کی آزادی ہوگی۔اس وقت یہ کسی مخصوص علاقے کی تقسیم کار کمپنی سے بجلی خریدنے کے پابند ہیں۔ اسی طرح بجلی کے یونٹس کو اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی تجارت کی طرح خرید و فروخت کیا جاسکے گا۔سی ٹی بی سی ایم 2 مرحلوں میں 18 ماہ تک مکمل طور پر آپریشنل بنانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ابتدائی طور پر ہول سیل مارکیٹ آپریشنل بنائی جائے گی جو بجلی کی فروخت اور خریداری کے تقریبا 16 فیصد حصے پر قبضہ کرے گی۔سی ٹی بی سی ایم روڈ میپ کو سی پی پی اے نے مختلف حکومتی فیصلوں کے تحت رواں سال فروری میں نیپرا میں جمع کرایا تھا۔یہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے عمل کا ایک حصہ ہے جس کا آغاز 1992 میں ہوا تھا اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ 3 سے 5 سال میں مکمل ہوجائے گا۔ سی ٹی بی سی ایم کی منظوری کے ساتھ سی پی پی اے مارکیٹ آپریٹر کی حیثیت سے کام کرے گی اور سافٹ ویئر پر مبنی انتظامات کے ذریعے بجلی کی لین دین کی میٹرنگ، بلنگ اور تصفیہ سمیت ہول سیل پاور ایکسچینج کا آغاز کرے گی جس کے بعد

باہمی تجارت کو مکمل کرنے کے لیے 18 ماہ کے اندر ریٹیل ایکسچینج سرگرمیاں کا آغاز ہوگا۔اگلے ایک دو روز میں اس بارے میں باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ حال ہی میں حکومت کے ساتھ حال ہی میں دستخط ہونے والے نظر ثانی شدہ مفاہمتی یادداشتوں کا بھی اس اسکیم کے تحت احاطہ کیا جائے گا تاہم سی پی پی اے کے پاس انکار کا اختیار ہوگا۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…