جمعہ‬‮ ، 31 جولائی‬‮ 2026 

اب بجلی کے یونٹس کی اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی طرح خرید و فروخت کی جا سکے گی، منظوری دے دی گئی

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے اسٹاک ایکسچینج – مسابقتی تجارت کے مشترکہ کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے 18 ماہ کے روڈ میپ کی منظوری دے دی تاکہ بجلی کی مارکیٹ میں موجودہ (واحد خریدار) کو تبدیل کرکے ایک آزاد متعدد خریداروں کا ماحول قائم کیا جاسکے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بجلی پیدا

کرنے والے اور خریداروں کو مارکیٹ آپریٹر (ایم او) اور اسپیشل پرپز ٹریڈر ٹریڈر (ایس پی ٹی)، سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی، کے ذریعہ حاصل کرنے اور ادا کرنے کی بنیاد پر بجلی خریدنے اور فروخت کرنے کی آزادی ہوگی۔اس وقت یہ کسی مخصوص علاقے کی تقسیم کار کمپنی سے بجلی خریدنے کے پابند ہیں۔ اسی طرح بجلی کے یونٹس کو اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی تجارت کی طرح خرید و فروخت کیا جاسکے گا۔سی ٹی بی سی ایم 2 مرحلوں میں 18 ماہ تک مکمل طور پر آپریشنل بنانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ابتدائی طور پر ہول سیل مارکیٹ آپریشنل بنائی جائے گی جو بجلی کی فروخت اور خریداری کے تقریبا 16 فیصد حصے پر قبضہ کرے گی۔سی ٹی بی سی ایم روڈ میپ کو سی پی پی اے نے مختلف حکومتی فیصلوں کے تحت رواں سال فروری میں نیپرا میں جمع کرایا تھا۔یہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے عمل کا ایک حصہ ہے جس کا آغاز 1992 میں ہوا تھا اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ 3 سے 5 سال میں مکمل ہوجائے گا۔ سی ٹی بی سی ایم کی منظوری کے ساتھ سی پی پی اے مارکیٹ آپریٹر کی حیثیت سے کام کرے گی اور سافٹ ویئر پر مبنی انتظامات کے ذریعے بجلی کی لین دین کی میٹرنگ، بلنگ اور تصفیہ سمیت ہول سیل پاور ایکسچینج کا آغاز کرے گی جس کے بعد

باہمی تجارت کو مکمل کرنے کے لیے 18 ماہ کے اندر ریٹیل ایکسچینج سرگرمیاں کا آغاز ہوگا۔اگلے ایک دو روز میں اس بارے میں باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ حال ہی میں حکومت کے ساتھ حال ہی میں دستخط ہونے والے نظر ثانی شدہ مفاہمتی یادداشتوں کا بھی اس اسکیم کے تحت احاطہ کیا جائے گا تاہم سی پی پی اے کے پاس انکار کا اختیار ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…