حکومتوں کا کام مذمتی قراردادیں پاس کرنا نہیں ، عملی اقدامات کرنے ہوتے ہیں ،گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر مفتی منیب الرحمن کا حکومت پر اظہار برہمی

  بدھ‬‮ 28 اکتوبر‬‮ 2020  |  23:52

کراچی (این این آئی)رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہاہے کہ ’’فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور پھرفرانسیسی صدر کی اس شر مناک حرکت کی پشت پناہی امتِ مسلمہ کے لیے ایک بہت بڑا المیہ اور ذہنی اور قلبی اذیت کا سبب ہے،توہینِ رسالت پر کسی سربراہِ مملکت کی حوصلہ افزائی پہلا واقعہ ہے۔اس نے مسلمانوں کے دل مجروح کردیے ہیں اور یہسوچی سمجھی سازش ہے تاکہ مسلمان محبتِ رسول میں سرشار ہوکر اشتعال کی کیفیت میں کوئی جوابی کارروائی کریں اورپھر انہیں عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیا جائے ۔ان خیالات کا اظہار


انہوںنے بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر علامہ سید مظفر شاہ ، مولانا ریحان امجد نعمانی، مفتی عابد مبارک المدنی، مفتی غلام غوث بغدادی، مفتی محمد الیاس رضوی، مفتی نذیر جان نعیمی ، مولانا محمد اشرف گورمانی،مفتی رفیع الرحمن نورانی، علامہ لیاقت حسین اظہری ، مولانا صابر نورانی، ثروت اعجاز قادری،مولانا بلال سلیم قادری ، محمد شمیم خان ، سید عمیر الحسن برنی ، مولانا بختیار علی ،مولانا احمد ربانی بھی موجود تھے ۔مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ہماری حکومت ، پارلیمنٹ اورسیاست دانوں نے مذمتی قراردادیں پاس کیں اور بیانات جاری کیے ، ہم اس کی تحسین کرتے ہیں ، لیکن حکومتوں کاکام صرف مذمتی قراردادیں پاس کرنا نہیں ہوتا ، بلکہ عملی اقدامات بھی کرنے ہوتے ہیں ، جو تاحال نظر نہیں آرہے۔ اگر سفیر کو بلاکر احتجاج کا پروانہ ہاتھ میں دینے سے مسئلہ حل ہوتا تو ہماری وزارتِ خارجہ نے بھارتی سفارت کاروں کو گزشتہ برسوں میں اتنے احتجاجی پروانے دیے ہیں کہ’’ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ‘‘میں اس کا اندراج ہوسکتا ہے ، کم از کم اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر فرانس سے اپنے سفارت کارکو احتجاجاًواپس بلایا جائے اور فرانسیسی سفیر مرک بیریٹی کو ملک بدر کیا جائےتاکہ فرانسیسی حکومت کو اس شرانگیزی اوردہشت گردی کی شدّت و حِدَّت کا صحیح ادراک ہوسکے۔فرانس میں بعض مساجد اور اسلامی مراکز کا بند کیا جانا آزادیِ مذہب کے خلاف ہے ، اس مسئلے کو یورپین یونین اور اقوامِ متحدہ کی سطح پر اٹھایا جائے۔پاکستان اورترکی کے سوا کسی مسلم حکمران کی جانب سے کوئی توانا ردِّ عمل نہیں آیا، اگر اسلامی کانفرنس کی تنظیم ’’او آئی سی‘‘مُردہ ہوچکی ہے تو پاکستان کو پہل کر کے خود کوئی بین الاقوامی سربراہی یا وزرائے خارجہ کی سطح پر کانفرنس منعقد کرنی چاہیے ۔ ہمیں اپنی حکومت کی مجبوریوں اور تحدیدات کا احساس ہے، لیکن ایمان اور عقیدے کا مسئلہ قیمت مانگتا ہے، آج کی دنیا میں بیانات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ ہم الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی مارکیٹوں میں موجود فرانسیسیمصنوعات کی فہرست شائع کریں تاکہ لوگوں کو آگہی ہو اوربائیکاٹ مہم کی تشہیر کریں،نیزمتحرک مذہبی تنظیمیں تمام سپر اسٹورز کے سامنے نمایاں انداز میں یہ فہرستیں آویزاں کریں ، فرانس کی بیشتر درآمدات کا تعلق بنیادی ضرورتوں سے نہیں ہے ، بلکہ سامانِ تعیُّش سے ہے ، اس سے پاکستان پر کوئی اثر نہیں پڑے گااور یہ تنظیمیں وفد بناکر درآمد کنندگان سے ملیں اور فرانسیسیمصنوعات کی درآمد کا سلسلہ رکوائیں ، کیونکہ حکومت کے لیے سرکاری سطح پر ایسا فیصلہ کرنا اگرچہ نہایت خیر کا باعث ہوگا، لیکن دشوار امر ہے۔ انہوںنے کہا کہ مذہبی سیاسی جماعتیں حکومت سے ہٹ کر اسلام آباد میں مغربی سفارت کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں اور ان کے سامنے اس مسئلے کی سنگینی کو پیش کریں ۔انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نےلکھا ہے: ’’توہینِ رسالت کی ریاستی سرپرستی جنگی جرائم میں آتی ہے‘‘ ، اس مسئلے کو اجاگر کیا جائے ، دوسال پہلے یورپین عدالت قرار دے چکی ہے کہ دینی مقدّسات کی توہین اظہارِ رائے کی آزادی میں نہیں آتی اور پریس فریڈم کا اس پر اطلاق نہیں ہوتا۔ اگر دنیا دہشت گردی ، مذاہب ،تہذیبوں اور قوموں کے درمیان نفرت انگیزی کو ختم کرنا چاہتی ہے ،تو دینی مقدّسات کی توہین کوفکریاور نظریاتی دہشت گردی قرار دیا جائے اور عالمی سطح پر اس کے لیے قانون سازی کی جائے ۔ہم ماضی میں گورنر ہائوس کراچی میں مغربی ممالک کے سُفراء کو یہ کہہ چکے ہیں :’’ ہماری خواہش تو یقینا ہے کہ پوری دنیا ہمارے دینی مقدّسات کا احترام کرے ، لیکن احترام کا تعلق دل سے ہوتا ہے ، یہ ہمارا آپ سے مطالبہ نہیں ہے ، ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ آپ ہمارے دینی مقدّسات کی  توہیننہ کریں اور قرآنِ کریم نے مسلمانوں کو بھی اسی اصول کا پابند بنایا ہے۔ ہم اپیل کرتے ہیں کہ آنے والے جمعۃ المبارک کو ’’ناموسِ رسالت‘‘ کے عنوان پر خطابات کیے جائیں ، اسے یومِ احتجاج کے طور پر منایا جائے اور ملک بھر میں میلاد النبی ﷺ کے جلوسوں اور اجتماعات کو ’’تحفظِ ناموسِ رسالت‘‘ کے عنوان سے منعقد کیا جائے، اسی طرح اس ماہِ مبارک میں تمام دینیاجتماعات اسی عنوان کے تحت کیے جائیں،نیز میلاد النبی ﷺ کے جلوسوں اور جلسوں کو فُل پروف سیکورٹی دی جائے۔انہوں کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں ناموسِ رسالت، ناموسِ امّہات المؤمنین، ناموسِ اہلبیتِ اطہار، ناموسِ صحابۂ کرام اور ناموسِ مقدّساتِ دین کے مقدمات کے لیے خصوصی قوانین بنائے جائیں ، اس کے لیے خصوصی قانونی ضابطۂ کار بنایا جائے اوران مقدّمات کو براہِ راست فیڈرل شریعت کورٹ میں ٹرائل کیا جائے اور اس کے لیے کم از کم مدت کا تعیّن کیا جائے، فیڈرل شریعت کورٹ میں وافر دینی علم رکھنے والے جج صاحبان کا تعیّن کیا جائے تاکہ قصور وار کو سزا اور بے قصورکو رہائی ملے ، ہر ایک کو معلوم ہے کہ ہماری ماتحت عدالتوں کے جج صاحبان ان مقدّمات کی حساسیت کا دبائو برداشت نہیں کرسکتے ، اس لیےانہیں بلاوجہ معرضِ التوا میں رکھا جاتا ہے اور مقدّمات فیصَل نہیں ہوتے۔توہینِ صحابہ کے کسی مجرم کو اب تک قانون کی گرفت میں نہیں لیا گیا، اس پر مسلمانانِ پاکستان کو بے حد تشویش ہے اور کچھ لوگ تو نظامِ حکومت میں اہم مناصب پر بیٹھے ہوئے ہیں، اس کے برعکس اہلسنّت کے علماء کویک طرفہ طور پر جیلوں میں ڈال رکھا ہے ،انہیں رہا کیا جائے۔انہوںنے کہا کہ ہمیں اس پر بھیتشویش ہے کہ اچانک دہشت گردی کی ایک نئی لہر اٹھ رہی ہے ، ہمارے انٹیلی جنس اور قومی سلامتی کے اداروں کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، ہم دہشت گردی کے تمام واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں، پشاور کے واقعے میں قرآن پڑھنے والے ننھےبچوں کو شہید کیا گیا ہے،یہ کھلی درندگی اور بربریت ہے، مولانا ڈاکٹر عادل خان کے سفّاکانہ قتل کے محرّکات اور مجرموں کاقانون کی گرفت میں نہ آنا سب کے لیے باعثِ تشویش ہے ،ایسے حالات میں علماء اور دینی اداروں کو سیکورٹی فراہم کی جائے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎