اسلام آباد(آن لائن)وزارت صنعت و تجارت کے ذیلی ادارہ پٹاک میں کرپشن کا پنڈوڑہ باکس کھل گیاہے،سیکرٹری وزارت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کرپٹ افسران کا مقدمہ نیب و ایف آئی اے کو بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ،جعلی ڈگری ہولڈرز افسران کی گردنیں بھی قانون کے شکنجے میں پھنس گئیں،جعلی ڈگری ہولڈرز،بھرتی کرنے والے مجاز آفیسرز،تصدیق کرنے والے افسران تک سب ایک ایک
صف میں کھڑے کرنے کی سمری تیار ہونے لگی ہے ،10کے قریب ملازمین و افسران کا کیس ایف آئی اے میں بھیجنے کے لیے تیار ی شروع کر دی گئی،تار چوری کا کیس بھی سامنے آ گیا،وزارت نے انکوائری کمیٹی بنا کر تحقیق شروع کر دی ہیں تفصیلات کے مطابق وزارت ِصنعت و پیداوار کے ذیلی ادارے پٹاک میں کرپشن کا ایک نیا پنڈوڑہ باکس کھل گیاہے،سیکرٹری وزارت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کرپٹ افسران کا مقدمہ نیب و ایف آئی اے کو بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ،جعلی ڈگری ہولڈرز افسران کی گردنیں بھی قانون کے شکنجے میں پھنس گئیں ہیں جبکہ آفیسران نے اپنی کرپشن چھپانے کے لئے منسٹری میں ڈیرے جما دئے ہیں۔ ادارے کے اندر زرائع نے بتایا ہے کہ پٹاک میں بدعنوان آفیسران نے فیکٹری کے اندراڑھائی لاکھ مالیت کی تار چوری کیس کو محض اس لئے خاموشی سے دبا دیا کیوں کہ اس میں محکمہ کے اندر مافیا کے سرغنہ عرفان جرال کے قریبی اور خاص اہلکار کے شامل ہونے کا انکشاف ہواہے محکمہ اندرہمارے زرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ فیکٹری کے اندر اس سے قبل متعدد مرتبہ سرکاری چھٹیوں کے اوقات میں چوری کے کئی کیس ہیں جو کہ ڈائیریکٹر جنرل پٹاک عرفان ظہیر اور دیگر آفیسران کے نوٹس میں موجود ہیں جعلی ڈگری ہولڈرز،بھرتی کرنے والے مجاز آفیسرز،تصدیق کرنے والے افسران تک سب ایک ایک صف میں کھڑے کرنے کی سمری تیار ہونے لگی ہے زرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ محکمہ کے سابق ڈی جی جاوید شیخ نے اپنے بیٹے عابد شیخ کے پاس
ڈگری نہ ہونے کے باوجود خلاف میرٹ اور قانون بھرتی کروایا جبکہ انجئنیر کی آسامی پر پاکستان انجئنیرنگ کونسل سے تصدیق شدہ ڈگری کے حامل افراد کو ہی بھرتی کیا جاتا ہے محکمہ میں ریٹایئرڈی جی جاوید شیخ کے فرزند عابد شیخ کی جعلی ڈگری ہونے کے باوجود تا حال اپنی کرسی پر براجمان ہیں دوسری جانب کئی افسران کی خلاف میرٹ بھرتیاں ہیں جن کو محکمہ کے ملازمین نے عدالت میں
چینلج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔زرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ محکمہ کے کرپٹ مافیا کے سرغنہ عرفان جرال کے بھائیوں نے خبریں لگنے پر ڈائیریکٹر جنرل عرفان ظہیر پر ان کے آفس حملہ کر دیا اور دوسری جانب گورننگ باڈی کے ممبر محبوب شیخ کو فیکٹری کے اندر گالم گلوچ کرتے ہوئے کہا کہ تم سب نے کرپشن کی ہے جبکہ نام صرف ہمارے بھائی کا آرہا ہے ہمارے بھائی کو نقصان پہنچنے پر
تم سب کا قبلہ درست کر دیا جائے گا ۔ زرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ محکمہ کے کرپٹ افسران نے اپنی چوریاں چھپانے کے لئے ریکارڈ تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے ۔وفاق کی تحویل میں چلنے والے محکمے پاکستان انڈسٹریل ٹیکنیکل اسسٹنس سینٹر (پٹاک) 1962سے تعمیر شدہ دیوار کی تعمیر بو کے لئے پر لاکھوں روپے کی منطو دے کرپشن کی نظر کر چکے ہیں۔ عرفان جرال کے بھائی عمران جرال
سمیت حبیب اللہ اوروقت کے ڈائریکٹر جنرل سرفراز کی ملی بھگت سے 50لاکھ سے زائد کی رقم ہڑپ کر گئے گئے ہیں ،ادارہ پٹاک کے بیشترآفیسران کے خلاف درجنوں کیس ملک کی مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں جبکہ اپنی کرپشن اور بڑے پیمانے پر خرد برد کو چھپانے کے لئے کئی دہایئوں سے ریٹایئرڈ آفیسران کے لئے محکمہ کی طرف سے تا حال سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں ریٹائیرڈ افسران
محکمہ کے اندرہونے والی تمام کرپشن سے باخبر ہیں ۔زرائع کے مطابق وزیراعظم کی شکایت پورٹل پر شکایات درج کرنے والے ملازمین کو محکمے سے جبری ریٹائیرڈ کر دیا گیا ہے جو کہ عدالت پہنچ گئے ہیں ؎محکمہ پٹاک کے خلاف ایف آئی اے اور نیب میںایک مرتبہ پھر 18 پرانے کیسز پر کاروائی شروع ہو گئی ہے جبکہ عرفان جرال کے کے خلاف ایف آئی اے میں شکائت نمبر E-131 اور نیب حکام کیس نمبر 1760تحقیات دوبارہ شروع ہوگئی ہیں اور مزید انکشافات متوقع ہیں
ۿ