اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

3مہینوں کے اندر اندر لاہور کا حلیہ بدل دونگا سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا ہائیکورٹ میں بیان

datetime 14  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی، مانیٹرنگ ڈیسک) کیپٹل سٹی پولیس آفیسر عمر شیخ نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کی متاثرہ خاتون سے متعلق اپنے بیان پر معافی مانگ لی ۔ سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے گورنر ہائوس لاہور میں ملاقات کی ۔

ذرائع کے مطابق گورنر چوہدری محمد سرور نے بھی سی سی پی او عمر شیخ سے ان کے متنازعہ بیان پر اظہار ناراضگی کیا ۔ ملاقات کے بعد سی سی پی او لاہور نے خاتون سے متعلق اپنے بیان پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میرے بیان سے میری بہن جس سے زیادتی ہوئی ہے تہہ دل سے معافی مانگتا ہوں ۔ میں ان تمام طبقات سے بھی جو میرے بیان کی وجہ سے رنج و غم اور غصے میں ہیں میں ان سے بھی معافی مانگتا ہوں۔ سی سی پی او عمر شیخ نے کہا کہ میرے بیان کا ہرگز غلط مقصد نہیں تھا لیکن اس کا تاثر غلط لیا گیا۔دوسری جانب سی سی پی او لاہور نے لاہور ہائیکورٹ میں بیان دیا ہے کہ وہ 3ماہ میں لاہور کا حلیہ بدل دینگے جبکہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے موٹروے کیس کے حوالے سے ریمارکس دیے کہ پتا نہیں انویسٹی گیشن ہورہی ہے یا ڈرامہ بازی ہے اور سی سی پی او نے وہ جملہ بولا جس پرپوری کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے۔نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں

موٹر وے کیس کی عدالتی تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق حکومت چاہے تو عدالتی تحقیقات کرا سکتی ہے۔ قانون پڑھ لیں اور مجھے بھی بتائیں کہ کس قانون کے تحت یہ حکم جاری کریں،صرف خبرچھپوانے

کے لیے درخواستیں دائر نہ کی جائیں۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کا مقدمہ درج ہے اور تحقیقات بھی ہورہی ہیں۔دورانِ سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی سی پی اونے وہ جملہ بولا جس پرپوری

کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے، یہ کیا انویسٹی گیشن ہے جس میں سی سی پی او مظوم خاتون کوغلط کہہ رہا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ سی سی پی او نے جو بیان دیا اس پر کیا کارروائی ہوئی؟ اس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ معاملے کی انکوائری ہورہی ہے، عدالت نے پوچھا کہ کیا آپ

کہہ رہے ہیں کہ سی سی پی اوکے بیان پر پر انکوائری ہورہی ہے؟ اس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ پورے معاملے کی انکوائری ہورہی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر سخت ایکشن ہونا چاہیے تھا تاکہ قوم کی بیٹیوں کو حوصلہ ہوتا، بہت سے وزرا نے

عجیب وغریب بیانات دیے، پتا نہیں انویسٹی گیشن ہورہی ہے یا ڈرامہ بازی ہے۔عدالت نے واقعے کی تحقیقات کیلیے کمیٹی کا نوٹیفیکشن اورتازہ رپورٹ طلب کر لی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…