اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے افسران کرپٹ افسران کے ساتھ مل چکے،کاغذات تبدیل کرکے اربوں روپے لوٹنے والوں کو فائدہ پہنچانے کا انکشاف

datetime 19  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن) سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے الزام لگایاہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے افسران کرپٹ افسران کے ساتھ مل چکے ہیں اور کاغذات تبدیل کرکے اربوں روپے لوٹنے والوں کو فائدہ پہنچانے میں مصروف ہیں۔ سردار ایاز صادق کے الزام پر سیکرٹری پی اے سی غصہ میں آگئے اور سردار ایاز صادق سے ثبوت مانگ لئے۔ یہ واقعہ پی اے سی کے اجلاس کے دوران پیش آیا

جس کی صدارت چئیرمین پی اے سی رانا تنویر کر رہے تھے۔ اجلاس میں خواجہ آصف، شیری رحمان، حنا ربانی کھر، مشاہد حسین سید، راجہ پرویز اشرف، راجہ ریاض، منزہ حسن وغیرہ بھی شامل تھے اور اجلاس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مبین اربوں روپے کی مالی بدعنوانی کا جائزہ لے رہے ہیں۔اجلاس کے دوران سابق سپیکر اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ کمیٹی میں جو منٹس منظور کئے ہیں اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، انہوں نے الزام لگایا کہ کاروائی میں دئیے گئے اہم ثبوت اور ریکارڈ کو تبدیل کرکے پی اے سی کے افسران نے غلط منٹس بنائے ہیں اور اربوں روپے کے کرپشن کے ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کی ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی اے سی سیکرٹریٹ میں کرپٹ افسران کو سہولت اور مدد ملتی ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ سردار ایاز صادق کے الزام پر سیکرٹری پی اے سی بھی آپے سے باہر ہو گئے اور ثبوت مانگ لئے تاہم پی اے سی چئیرمین رانا تنویر نے دونوں کے مابین بیچ بچاؤ کرا دیا اور یقین دہانی کرائی کہ کاروائی کا ریکارڈ طلب کر کے منٹس دوبارہ بنائے جائیں گے۔ پی اے سی نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 48ارب روپے سے زائد کی خریداری میں مبینہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی بارے پیرا بھی نمٹا دیا اور آئندہ احتیاط برتنے کی ہدایت کر دی۔ پی اے سی میں بتایاگیا ہے کہ 18ماہ کے دوران 66.7ارب روپے کی ریکوری ہونی ہے، اگر ڈی اے سی

متواتر ہو تو ریکوری زیادہ ہو سکتی ہے۔ پی اے سی نے تمام وفاقی سیکرٹری کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈی اے سی متواتر کریں تاکہ لوٹی ہوئی دولت واپس آسکے۔ پی اے سی کو بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر کے تحت ملنے والے سات ٹیکس ٹربیونل میں جج تعینات نہیں ہیں یہ ٹربیونل بند پڑے ہیں ان میں اربوں روپے کی ریکوری کے مقدمات زیرالتوا ہیں۔ اربوں روپے کے مقدمات میں ٹیکس کمشنر، ہائی کورٹ وغیرہ نے حکم امتناعی جاری کر رکھے ہیں،

یہ حکم امتناعی گزشتہ 5سالوں سے دئیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے پی اے سی نے اٹاری جنرل اور سیکرٹری قانون و انصاف کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی اے سی اجلاس میں ادارہ کی ریسٹرکچرنگ بارے رپورٹ بھی منظور کر لی ہے۔ اجلاس میں خواجہ آصف نے الزام لگایا ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی 700ارب روپے کے ٹھیکے سنگل بڈ پر دینے میں مصروف ہے اس لئے اس ملک میں قانون پر عملدرآمد مشکل کام ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں افسران کی تعیناتیاں کی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…