بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

نیب کو اندھے اختیارات حاصل ہیں، کسی بھی شخص کو محض الزام پرکتنے ماہ حراست میں رکھ سکتا ہے؟احسن اقبال کھل کر بول پڑے

datetime 24  جولائی  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ نیب کو اندھے اختیارات حاصل ہیں، وہ کسی بھی شخص کو محض الزام پر 90روز تک حراست میں رکھ سکتا ہے، نیب قوانین میں ترامیم کے لئے پارلیمانی کمیٹی غور کر رہی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب افسران کو خود ہی مستعفی ہوجانا چاہیے تھا، خواجہ برادران کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا حساب کون دے گا؟

۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پارلیمانی قانون ساز کمیٹی میں دو طرح کے قوانین زیرغور ہیں ایک تو نیب قوانین میں ترمیم زیر غور ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب ہمارا موقف ثابت ہو گیا ہے کہ جو ہم بات کرتے تھے وہ قانون کے مطابق تھی اور اگر نیب افسران نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا ہوتا تو وہ خود ہی مستعفیٰ ہو کر گھر چلے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ نیب قوانین کے مطابق آپ کسی بھی شخص کو اٹھاکر90 دن تک بند کر سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومت بھی ایسے قوانین بنا رہی ہے کہ وہ کسی بھی شہری کو 6ماہ کے لئے غائب کر سکتی ہے۔ اس پر بھی ہمیں تشویش ہے ، ہم نے حکومت سے جب ان قوانین کے بارے میں پوچھا تو اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو اندھے اختیارات حاصل ہیں ابھی انکوائری نہیں ہوتی اور بندے پہلے اٹھالیتے ہیں جس پر سیاسی جماعتوں کو شدید تشویش ہے۔ تاہم کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے خلاف ریفرنس بھی دائر ہو چکے ہیں اور ان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ اسی بات پر عدالت نے بھی اعتراض اٹھایا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ نیب قوانین میں ترامیم کے لئے ہم نے ایک سال قبل موجودہ قوانین سے متعلق متبادل تجاویز دی تھیں۔ ہم نے بتایا تھا کہ ہم کو ان قوانین پر اعتراض ہے اگر ان میں ترامیم کر دی جائیں تو احتساب صاف و شفاف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص 50بندوں کو قتل کر دیتا ہے تو قانون کے اندر اس

شخص کا 14دن کا ریمانڈ ہے۔ اگر نیب کسی کو جھوٹے الزام میں پکڑ لیتا ہے تو اس کے قانون میں 90دن تک ریمانڈ دیا جاتا ہے۔ خواجہ برادران ، شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل سمیت دیگر جو کوئی مہینوں سے نیب کے زیرحراست رہے ان کی زندگی کے دن ضائع کرنے کا حساب کون دے گا؟ خواجہ برادران باعزت بری ہوئے مگر ان کے زندگی کے قیمتی دن ضائع کر دئیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹر نے بھی فیصلے میں لکھا کہ نیب

کو سیاسی انجیئرنگ کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، اس فیصلے کے بعد تو عوام کو سب سمجھ آگیا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جب ہم 2013ء میں حکومت میں گئے تو اس وقت سینیٹ میں ہمارے پاس اکثریت نہیں تھی اس وجہ سے ہم نیب قوانین میں ترامیم نہیں کر پائے۔ ہم نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر ایک کمیٹی بھی بنائی تھی تاہم جب پانامہ سکینڈل آیا تو پی ٹی آئی پیچھے ہٹ گئی، نیب قوانین یا قانون سازی کے لئے اکثریت ضروری ہوتی ہے اور حکومت اور اپوزیشن کو مل کر قانون سازی کرنی پڑتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…