جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

نیب کو اندھے اختیارات حاصل ہیں، کسی بھی شخص کو محض الزام پرکتنے ماہ حراست میں رکھ سکتا ہے؟احسن اقبال کھل کر بول پڑے

datetime 24  جولائی  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ نیب کو اندھے اختیارات حاصل ہیں، وہ کسی بھی شخص کو محض الزام پر 90روز تک حراست میں رکھ سکتا ہے، نیب قوانین میں ترامیم کے لئے پارلیمانی کمیٹی غور کر رہی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب افسران کو خود ہی مستعفی ہوجانا چاہیے تھا، خواجہ برادران کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا حساب کون دے گا؟

۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پارلیمانی قانون ساز کمیٹی میں دو طرح کے قوانین زیرغور ہیں ایک تو نیب قوانین میں ترمیم زیر غور ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب ہمارا موقف ثابت ہو گیا ہے کہ جو ہم بات کرتے تھے وہ قانون کے مطابق تھی اور اگر نیب افسران نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا ہوتا تو وہ خود ہی مستعفیٰ ہو کر گھر چلے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ نیب قوانین کے مطابق آپ کسی بھی شخص کو اٹھاکر90 دن تک بند کر سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومت بھی ایسے قوانین بنا رہی ہے کہ وہ کسی بھی شہری کو 6ماہ کے لئے غائب کر سکتی ہے۔ اس پر بھی ہمیں تشویش ہے ، ہم نے حکومت سے جب ان قوانین کے بارے میں پوچھا تو اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو اندھے اختیارات حاصل ہیں ابھی انکوائری نہیں ہوتی اور بندے پہلے اٹھالیتے ہیں جس پر سیاسی جماعتوں کو شدید تشویش ہے۔ تاہم کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے خلاف ریفرنس بھی دائر ہو چکے ہیں اور ان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ اسی بات پر عدالت نے بھی اعتراض اٹھایا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ نیب قوانین میں ترامیم کے لئے ہم نے ایک سال قبل موجودہ قوانین سے متعلق متبادل تجاویز دی تھیں۔ ہم نے بتایا تھا کہ ہم کو ان قوانین پر اعتراض ہے اگر ان میں ترامیم کر دی جائیں تو احتساب صاف و شفاف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص 50بندوں کو قتل کر دیتا ہے تو قانون کے اندر اس

شخص کا 14دن کا ریمانڈ ہے۔ اگر نیب کسی کو جھوٹے الزام میں پکڑ لیتا ہے تو اس کے قانون میں 90دن تک ریمانڈ دیا جاتا ہے۔ خواجہ برادران ، شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل سمیت دیگر جو کوئی مہینوں سے نیب کے زیرحراست رہے ان کی زندگی کے دن ضائع کرنے کا حساب کون دے گا؟ خواجہ برادران باعزت بری ہوئے مگر ان کے زندگی کے قیمتی دن ضائع کر دئیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹر نے بھی فیصلے میں لکھا کہ نیب

کو سیاسی انجیئرنگ کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، اس فیصلے کے بعد تو عوام کو سب سمجھ آگیا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جب ہم 2013ء میں حکومت میں گئے تو اس وقت سینیٹ میں ہمارے پاس اکثریت نہیں تھی اس وجہ سے ہم نیب قوانین میں ترامیم نہیں کر پائے۔ ہم نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر ایک کمیٹی بھی بنائی تھی تاہم جب پانامہ سکینڈل آیا تو پی ٹی آئی پیچھے ہٹ گئی، نیب قوانین یا قانون سازی کے لئے اکثریت ضروری ہوتی ہے اور حکومت اور اپوزیشن کو مل کر قانون سازی کرنی پڑتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…