بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

جلد دولت کمانے والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ قبر میں خالی ہاتھ جانا ہے،چیئرمین نیب کا اہم بیان سب کی توجہ کا مرکز بن گیا

datetime 26  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن )قومی احتساب بیورو ( نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر ) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب شفافیت اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتا ہے۔ ایمانداری اور رزق حلال ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔جلد دولت کمانے والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ قبر میں خالی ہاتھ جانا ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نیب نے ڈبل شاہ کو اس سے لوٹے گئے4ارب روپے وصول کر کے اسے سنگل شاہ بنا دیا یہ رقم ڈبل شاہ کے متاثرین میں تقسیم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈبل شاہ کیس کے شریک ملزم تصور گیلانی سے لوٹے گئے 1.9 ارب روپے میں سے1.2 ارب روپے وصول کر کے متاثرین میں تقسیم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹی /کوآپریٹو سوسائٹیزکے خلاف نیب میں کیسز جاری ہیں ان کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گاکیونکہ سرکاری ملازمین پنشنروں کو لوٹ کر ان کی محنت کی کمائی سے محروم کر دیا گیا ہے اور وہ اپنے ساتھ فراڈ کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ریگولیٹرز کو جعلی اور غیر رجسٹرڈ ہائوسنگ سوسائٹی کے خلاف کارروائی کرنے چاہئے انہیں چیک کرنا چاہئے کہ سوسائٹی نے NOCحاصل کیا ہے۔ متعلقہ ریگولیٹر سے لے آئوٹ پلان کی منظوری لی گئی ہے اور قانون کے مطابق اس زمین پر اس کا قبضہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایمانداری اور رزق حلال ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔جلد دولت کمانے والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ قبر میں خالی ہاتھ جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی تمام بڑائیوں کی جڑ ہے جو بتدریج تمام وسائل کھا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ تمام انکوائریاں اور انوسٹی گیشن مقررہ مدت میں مکمل کی جائے اور نیب میں آنے والے تمام ملزموں کی عزت نفس یقینی بنائی جائے انہوں نے کہا کہ تمام سائلین کی شکایات قانون کے مطابق تیزی سے نمٹائی جائیں۔

موضوعات:



کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…