جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

جنہیں لگتا ہے کہ کرونا ڈرامہ ہے اور زہر کے ٹیکے لگائے جارہے ہیں، وہ وارڈ آکر ہمارے ساتھ کام کرے اور ۔۔۔کرونا سے متعلق اوٹ پٹانگ افواہیں پھیلانے والوں کو خاتون ڈاکٹر کا سخت جواب‎

datetime 10  جون‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کروناوائرس کے مریضوں کو زہر کے ٹیکے لگانے کے الزامات اور اوٹ پٹانگ قسم کی جھوٹی افواہیں پھیلانے پر کرونا کے مریضوں کا علاج کرنیوالی ایک خاتون ڈاکٹر برس پڑیں۔خاتون ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ آج کل کچھ لوگ میڈیسن ایکسپرٹ بننے کی کوشش کررہے ہیں جو مریض کرونا کے وارڈ میں جاتے ہیں انہیں زہر کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔

انہیں مار دیتے ہیں، انکے جسم سے اعضاء نکال لیتے ہیں اور انکی لاشیں پتہ نہیں کتنے کتنے ڈالرز میں فروخت کرتے ہیں۔یہ لوگ پہلے اپنے دماغ سے کہانی بناتے ہیں، پھر یہ پراسرار کہانی ترتیب دی جاتی ہے جیسے یہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا ہے۔جن کو لگتا ہے کہ کرونا وائرس ڈرامہ ہے ، یہ ایک جھوٹی سازش ہے ، ہم ڈاکٹر دن رات ڈیوٹی دیکر تھک گئے ہیں، ہم پر کام کا بہت بوجھ ہے، ان سے گزارش ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر آئسولیشن وارڈز میں آئیں، کرونا وارڈ میں جا کر مریضوں کے کپڑے چینج کریں، کھانا کھلائیں اور جو مریض مر جائیں ان کو غسل دے کر دفنائیں ، اس طرح ہمیں اور پیرامیڈیکس سٹاف کو بھی ریلیف ملے گا جو دن رات کام کررہے ہیں اور خود بھی کرونا کا شکار ہورہے ہیں۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ کرونا ڈرامہ ہے اور زہر کے ٹیکے لگ رہے ہیں، میں آپکو مشورہ دیتی ہوں کہ آپ اپنی آنکھوں سے آکر دیکھیں کہ زہر کے ٹیکے لگ رہے ہیں یا نہیں، وہ یہاں آئیں اور پی پیز اور حفاظتی لباس بھی نہ پہنیں،ان افواہوں کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جس مریض کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آتا ہے اور اسے داخل کیا جانا ہوتا ہے تو اسکے اہلخانہ ان افواہوں سے ڈرجاتے ہیں اور زبردستی مریض کو گھر لے جاتے ہیں ، گھر میں اس مریض کی حالت بگڑ جاتی ہے جب وہ آخری دموں پر ہوتا ہے تو اسے ہسپتال لایا جاتا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس کچھ مریض مرے ہوئے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ ہم جو بھی کرلیں اس مریض کو ہم نہیں بچاسکتے۔خاتون نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ افواہیں پھیلاتے ہیں وہ یاتو ہسپتال کے وارڈز میں آکر ہمارے ساتھ کام کریں اور آکر دیکھیں یا پھر بکواس بند کریں

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…