جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

جنہیں لگتا ہے کہ کرونا ڈرامہ ہے اور زہر کے ٹیکے لگائے جارہے ہیں، وہ وارڈ آکر ہمارے ساتھ کام کرے اور ۔۔۔کرونا سے متعلق اوٹ پٹانگ افواہیں پھیلانے والوں کو خاتون ڈاکٹر کا سخت جواب‎

datetime 10  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کروناوائرس کے مریضوں کو زہر کے ٹیکے لگانے کے الزامات اور اوٹ پٹانگ قسم کی جھوٹی افواہیں پھیلانے پر کرونا کے مریضوں کا علاج کرنیوالی ایک خاتون ڈاکٹر برس پڑیں۔خاتون ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ آج کل کچھ لوگ میڈیسن ایکسپرٹ بننے کی کوشش کررہے ہیں جو مریض کرونا کے وارڈ میں جاتے ہیں انہیں زہر کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔

انہیں مار دیتے ہیں، انکے جسم سے اعضاء نکال لیتے ہیں اور انکی لاشیں پتہ نہیں کتنے کتنے ڈالرز میں فروخت کرتے ہیں۔یہ لوگ پہلے اپنے دماغ سے کہانی بناتے ہیں، پھر یہ پراسرار کہانی ترتیب دی جاتی ہے جیسے یہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا ہے۔جن کو لگتا ہے کہ کرونا وائرس ڈرامہ ہے ، یہ ایک جھوٹی سازش ہے ، ہم ڈاکٹر دن رات ڈیوٹی دیکر تھک گئے ہیں، ہم پر کام کا بہت بوجھ ہے، ان سے گزارش ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر آئسولیشن وارڈز میں آئیں، کرونا وارڈ میں جا کر مریضوں کے کپڑے چینج کریں، کھانا کھلائیں اور جو مریض مر جائیں ان کو غسل دے کر دفنائیں ، اس طرح ہمیں اور پیرامیڈیکس سٹاف کو بھی ریلیف ملے گا جو دن رات کام کررہے ہیں اور خود بھی کرونا کا شکار ہورہے ہیں۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ کرونا ڈرامہ ہے اور زہر کے ٹیکے لگ رہے ہیں، میں آپکو مشورہ دیتی ہوں کہ آپ اپنی آنکھوں سے آکر دیکھیں کہ زہر کے ٹیکے لگ رہے ہیں یا نہیں، وہ یہاں آئیں اور پی پیز اور حفاظتی لباس بھی نہ پہنیں،ان افواہوں کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جس مریض کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آتا ہے اور اسے داخل کیا جانا ہوتا ہے تو اسکے اہلخانہ ان افواہوں سے ڈرجاتے ہیں اور زبردستی مریض کو گھر لے جاتے ہیں ، گھر میں اس مریض کی حالت بگڑ جاتی ہے جب وہ آخری دموں پر ہوتا ہے تو اسے ہسپتال لایا جاتا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس کچھ مریض مرے ہوئے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ ہم جو بھی کرلیں اس مریض کو ہم نہیں بچاسکتے۔خاتون نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ افواہیں پھیلاتے ہیں وہ یاتو ہسپتال کے وارڈز میں آکر ہمارے ساتھ کام کریں اور آکر دیکھیں یا پھر بکواس بند کریں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…