طیارہ حادثے کی اصل وجوہات سامنے آنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، وزیر داخلہ نے اہم پیغام جاری کر دیا

  جمعہ‬‮ 22 مئی‬‮‬‮ 2020  |  23:21

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ طیارہ حادثے کی اصل وجوہات سامنے آنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔جمعہ کو وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے لاہور سے کراچی جانے والے پی آئی اے کے طیارے پی کے 8303 حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا- وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا کہ عید سے دو روز قبل اس دل دہلا دینے واقع نے عید کی خوشیاں پھیکی کر دی ہیں،جمعتہ الوداع کا دن جب تمام لوگ رحمتیں اور برکتیں سمیٹ رہے تھے، اس دوران یہ خبر کسی


قیامت سے کم نہیں تھی، جن لوگوں نے اس مبارک دن پر اپنی جان دی یے مجھے پوری امید ہے کہ اللہ تعالی ان کے درجات بہت بلند کریگا اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دیگا- انشااللہ- اس کے ساتھ ساتھ دعا گو ہوں کہ خدا مرحومین کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمی ہونے والے افراد کو جلد از جلد مکمل طور پر صحت یاب کرے- وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا کہ اس موقع پر میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے عوام کو بہت ذمہ داری کے ساتھ عوام کو تمام ضروری معلومات دیں اور غیر تصدیق شدہ خبریں دے کر افراتفری کا عالم نہیں بننے دیا- میں اس موقع پر گزارش یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب تک حقائق پوری طرح سامنے نہیں آتے- قیاس آرائیوں سے اجتناب کریں اور انکوائری کا مرحلہ مکمل ہونے دیں- انہوںنے کہاکہ یہ سانحہ پوری قوم کے لئے افسوس ناک ہے اور اس مشکل گھڑی میں ہمیں ملکی سطح کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا- وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے بروقت اس معاملے کا نوٹس لیا ہے اور امدادی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ تحقیقاتی عمل کو بھی شفاف رکھنے کی ہدایت کی ہے- پوری امید ہے کہ اس ناخوشگوار واقعہ کے پیش آنے کی اصل وجوہات تک پہنچ جائینگے- اس حادثے کے نتیجے میں رہائشی علاقے میں بھی نقصان کی اطلاع پریشان کن ہے- وفاقی حکومت متاثرین کی امداد کے لئے ہر ممکن تعاون یقینی بنائے گی- اس حادثے کی لپیٹ میں آنے والے ہر شخص کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے ریلیف کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے- آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر عوام سے متحد رہنے کی اپیل کرتا ہوں اور گزارش ہے کہ حقائق سامنے آنے تک کوئی جھوٹی خبریں نہ پھیلائیں-خدا ہم سب پر رحم فرمائے اور اس ملک کو اپنے حفظ و امان میں رکھے-


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎