منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم  کے ویژن سرسبز پاکستان کی دھجیاں اڑا دیں  سرسبز لاکھوں مالیت کے درخت کٹوانے کے ریٹ مقرر

datetime 25  فروری‬‮  2020 |

چشتیاں(آن لائن) محکمہ جنگلات چشتیاںنے وزیراعظم پاکستان کے ویژن سرسبز پاکستان کی دھجیاں اڑا دی سرسبز لاکھوںمالیت کے درخت کٹوانے کے ریٹ مقرر کالونیوں،پٹرول پمپ ،ہسپتال کے راستے کو کشادہ کرنا آسان صرف چمک ہی کافی ہے عوامی سماجی حلقوںکا نوٹس لینے کامطالبہ تفصیلات کے مطابق چشتیاں رینج کے آفیسر محمد جمیل ،بلاک آفیسر رانا محمد عمر،گارڈ نے چشتیاں سے حاصلپور روڈ کے

مختلف مقامات سے لاکھوںمالیت کے سرسبز درجنوں درخت صرف اس لئے کاٹ دیئے تاکہ کسی کے ہسپتال کا راستہ وسیع ہوجائے کسی پٹرول پمپ مالک کو گاڑیا ں گزارنے میں دشواری نہ ہو کسی کالونی کا ریٹ بڑھ جائے جس کے لئے مذکورہ آفیسران نے پالیسی بنائی ہوئی ہے کہ مالکان رقم دیکھائے تاکہ ان کا موڈ بنے ذرائع کے مطابق یہ آفسیران ایک درخت کا تقریبا ایک لاکھ روپے سے دولاکھ روپے تک وصولتے ہیں اور اس میں مذکورہ آفیسران درخت کی کٹوائی سے لے کر فروخت تک اور اسکے بعد وہ ان درختوں کو ہضم کرنے کیلئے وہ فرضی بندے کو معمولی سا جرمانہ لگادیتے ہیں تاکہ کاغذی کاروائی بھی مکمل کی جائے ااور کوئی پوچھ گچھ نہ ہو مزید زرائع کے مطابق رینج آفیسر بڑی دیدہ دلیری سے اکثر اوقات پارٹیوں سے کہتاہے کہ مجھے ایف او صاحب نے سپیشل لگایا ہے میں ان کا خاص ہو انکو بھی حصہ دینا ہوتا ہے اسی لئے تو میرے آنے کے بعد کام کھلے عام ہورہاکوئی شکایات بھی لگائے تو اس کوسنی ان سنی کردیا جاتاہے اسکی زندہ مثال چشتیاںسے حاصلپور روڈ پر درجنوں درخت سرسبز کاٹ دیئے گئے جس کاسلسلہ ابھی تک جاری ہے گذشتہ روز بھی طاہر کھچی نامی شخص ان افیسران کی آشر باد سے درخت کاٹ کرلے گیا جس کو کوئی پوچھنے والا نہ تھا بلکہ مقامی افراد نے انکی ویڈیو بھی بنالی تھی اسی طرح یہاں پر تعینات بلاک آفیسر رانا عمرجو اسطرح کے کاموںکے بارے میں مشہور ہے پہلے بھی متعدد بار چوری درخت کٹوانے کے چکر میں معطل رہ چکا ہے اسکے باوجود ابھی ابھی دوبارہ بحال ہونے کے باوجود یہ کام دھڑلے سے جاری ہے عوامی سماجی حلقوںکا مطالبہ ہے کہ اگر یہ سلسلہ نہ تھم سکا تو چشتیا ں رینج سے درختوںکا صفایا ہوجائے گا مزید انہوںنے اپنے مطالبہ میںکہاہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کروائی جائے او ر فرض شناس ایماندار آفیسر کو تعینات کروایا جائے تاکہ درخت محفوظ رہ سکے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…