جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کے سرکاری سٹیل مل کے بجائے پرائیویٹ سٹیل مل کی بحالی کے لئے اقدامات،ملازمین میں کھلبلی مچ گئی

datetime 2  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) وفاقی حکومت کی جانب سے اسٹیل مل کے بجائے طوارقی اسٹیل مل کی بحالی کے حوالے سے اقدامات پر پاکستان اسٹیل مل کے حلقوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے سال2013سے غیر فعال طوارقی اسٹیل مل کی بحالی کے منصوبے پر غور سے پاکستان اسٹیل مل کے ملازمین میں بددلی پھیل گئی ہے۔ پاکستان اسٹیل مل جیسا حکومتی ملکیتی ادارہ جون2015سے غیر فعال ہے

جبکہ گزشتہ اور موجودہ حکومت میں اس ادارے کی بحالی کے حوالے سے بارہا بلند بانگ دعوے بھی کیے گئے۔بتایا جاتا ہے کہ طوارقی اسٹیل مل کی بحالی کے حوالے سے مل مالکان اور وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت کے درمیان ایک سے زائد مرتبہ بات چیت ہوچکی ہے جس میں ملز مالکان نے 50تا70کروڑ ڈالرکی مزید سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔ طوارقی اسٹیل مل کے مالکان اس سرمایہ کاری کے عوض حکومت پاکستان سے ارزاں نرخوں پر گیس فراہمی اور بلٹس پر رعایتی ڈیوٹی کے خواہاں ہیں۔طوارقی اسٹیل مل کراچی میں پورٹ قاسم کے علاقے میں 220ایکڑ پر قائم کی گئی تھی جس کی سالانہ پیداواری استعداد1.28ملین ٹن ہے جسے بڑھا کر15لاکھ ٹن سالانہ تک لے جایا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ سال 2013میں طوارقی اسٹیل مل کے مالکان اور حکومت کے درمیان رعایتی نرخوں پر گیس کی فراہمی کے معاملے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا جس کے بعد مل مالکان نے پیداواری عمل معطل کردیا تھا۔دوسری جانب پاکستان اسٹیل مل کے بجائے طوارقی اسٹیل مل کی بحالی کے حوالے سے آنے والی اطلاعات نے پاکستان اسٹیل کے افسران اور ملازمین میں بے چینی کی لہر پیدا کردی ہے۔ اسٹیل مل کے ملازمین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے 3 ماہ کے اندر غیر فعال اداروں کی بحالی کے حوالے سے اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی،تاہم غیر فعال سرکاری ادارے کی بحالی کے بجائے نجی شعبے میں چلنے والے ادارے کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھانا کسی طور ملک کی خدمت نہیں۔ ملازمین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فولاد سازی کے سب سے بڑے ملکی کارخانے کی بحالی و بقا کیلئے سنجیدہ اور نیک نیتی کے ساتھ اقدامات کیے جائیں تا کہ ہزاروں افرا د کے مستقبل کے ساتھ ساتھ اس قومی اثاثے کو بھی بچایا جاسکے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…