اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

دینی مدارس پر چھاپے،لال مسجد کا محاصرہ فوراً ختم کیا جائے ورنہ۔۔! مذہبی جماعتیں مشتعل،دوٹوک اعلان کردیا

datetime 22  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)دینی مدارس پر بلاجواز چھاپوں کا سلسلہ بند کیا جائے،بلاجواز چھاپے مدارس مخالف مہم کا حصہ ہیں،آئندہ چھاپہ مارا گیا تو مزاحمت کی نوبت بھی آ سکتی ہے,لال مسجد کا محاصرہ ختم کیا جائے,بچیوں تک کھانا پہنچایا جائے،دارالافتاء لال مسجد کو بحال کیا جائے،مدارس کو احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔ مدارس پر چھاپوں کے حوالے سے مرکزی قیادت،اتحاد تنظیمات اور دینی سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے جلد متفقہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ان خیالات کا اظہار

وفاق المدارس،جمعیت اہلسنت،جمعیت علماء، اسلام,اہلسنت و الجماعت اور دیگرجماعتوں کے رہنماوں,مدارس کے ذمہ داران اور مساجد کے ٓائمہ وخطباء نے دارالعلوم اسلام آباد میں منعقدہ ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جمعیت اہلسنت کے امیر مولانا اشرف علی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس سے وفاق المدارس اسلام آباد کے مسوول مولانا ظہور احمد علوی،مولانا مفتی عبدالسلام،مولانا عبدالقدوس محمدی،مولانا قاری سہیل عباسی،مولانا مفتی دوست محمدرئیس دارالافتاء لال مسجد مولانا مفتی امیر زیب،مولانا مفتی احسان الحق،مولانا یاسر اقبال سمیت بڑی تعداد میں علماء کرام نے اسلام آباد کے دینی مدارس پر مسلسل چھاپوں اور مدارس مخالف مہم پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی-علماء کرام نے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ ہم نے ہمیشہ ملکی سلامتی اور امن وامان کے لیے اداروں کا تعاون کیا لیکن یہ توہین آمیز انداز کسی طور پر قابل قبول نہیں -بلاجواز چھاپے مار کر مدارس کو مشکوک بنایا جا رہا ہے انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو خدانخواستہ مزاحمت کی نوبت بھی آ سکتی ہے-علماء کرام نے مطالبہ کیا کہ بلاجواز چھاپوں کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے،لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا محاصرہ ختم کیا جائے،بچیوں تک کھانا پہنچانے کی اجازت دی جائے اور دارالافتاء لال مسجد کو بحال کیا جائے-اجلاس کے شرکاء نے خبردار کیا کہ مدارس کے خلاف اس مہم جوئی کے ذریعے سے اہل مدارس کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور نہ کیا جائے_انہوں نے کہا کہ وفاق المدارس کی مرکزی قیادت,مذہبی سیاسی جماعتوں اور

اتحاد تنظیمات مدارس سے مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔دریں اثناء اسلام آباد کے قدیم دینی ادارے دارالعلوم اسلام آباد کے مہتمم مولانا ضیاء اللہ دیوبندی نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ادارے پر بھارے تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں نے دھاوا بولا ادارے کے ناظم اور اساتذہ کرام پر بندوقیں تان کر انہیں ہراساں کیا گیا،سات کمسن بچوں کو جن کی عمریں تقریبا دس سے پندرہ برس کے درمیان تھیں انہیں تین تین اہلکاروں نے پکڑ کر گاڑیوں میں ڈالا اور

اپنے ساتھ لے گئے،بچوں سے مختلف سوالات پوچھے جاتے رہے دو گھنٹے بعد انہیں کھانا کھلا کر اور ایک ایک ہزار روپے دے کر چھوڑ دیا گیا-مولانا ضیاء اللہ نے کہا کہ حکومتی اہلکار غیر ملکی سفیروں کو ہمارے ادارے کے دورے کرواتے رہے اور اسے ایک ماڈل مدرسہ کے طور پر پیش کرتے رہے لیکن گزشتہ شب اسی ادارے پر توہین آمیز انداز سے بلاجواز چھاپہ مار کر ادارے کی چالیس سالہ ساکھ کو مٹی میں ملا دیا گیا-مولانا ضیاء اللہ نے وفاق المدارس اور دیگر جماعتوں کے ذمہ داران اور معروف علماء کرام کی موجودگی میں چیف آف آرمی اسٹاف چیف جسٹس اور صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان سے اس واقعے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا-

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…