جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

افغان مہاجرین کو بھائی سمجھ کر پاکستان میں 40 سال سے برداشت کیا، کیا پاکستان کیلئے اتنی بڑی قربانی کیا افغانستان بھی دیگا؟ہمارے بھائی طاہر داوڑ کی لاش افغانستان سے ملی؟ ایسا کیوں ہوا ، وزیر مملکت علی محمد خان کا اپوزیشن کے احتجاج پر دوٹوک جواب

datetime 31  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی کا دو روزہ وقفہ کے بعد شروع ہونے والا اجلاس ہنگامی آرائی کی نذر ہوگیا ،وزیر مملکت علی محمدخان کی تقریرکے دور ان اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کرلیا ،اپوزیشن کے شور شرابے کے دور ان ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے کراچی کے ارکان پلے کارڈز لیکر آگئے ، پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر کی اپنی نشست سے اٹھ کر پلے کارڈز

چھیننے کی کوشش ، اپوزیشن رکن آغا رفیق اللہ اور قادر پٹیل سمیت حکومتی و اپوزیشن ارکان میں تلخ کلامی ،عطااللہ خان اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہاتھا پائی اور دھکم پیل ہوئی ،قائم اسپیکر قاسم خان سوری نے ہنگامہ آرائی کے باعث اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دیا ۔جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دور ان وزیر مملکت علی محمد خان کی طرف سے علی وزیر اور محسن داوڑ کی رکنیت ختم کرنے کی بات پر اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور شدید احتجاج کیا ۔ وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ ہم نے افغانستان کے مہاجرین کو بھائی سمجھ کر پاکستان میں 40 سال سے برداشت کیا، کیا پاکستان کیلئے اتنی بڑی قربانی کیا افغانستان بھی دیگا؟۔ علی محمد خان نے کہاکہ ہم قربانی دے رہے ہیں مگر ہمارے بھائی طاہر داوڑ کی لاش افغانستان سے ملی؟ ایسا کیوں ہوا ،پھر وہ لاش کیا حکومت پاکستان کے حوالے کی جانی چاہیے تھی یا کسی افغانی پٹھو کے حوالے کرنا مقصود تھا۔ انہوںنے کہاکہ جو پاکستان کے جھنڈے اور دو قومی نظریہ کو نہیں مانتا اس کو ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں ۔ علی محمد خان کے جواب کے دوران ایوان میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا ،بلاول سمیت اپوزیشن ارکان نشستوں پر کھڑے ہوئے اور شدید احتجاج کیا ۔اپوزیشن کے شور کے دوران ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے کراچی کے ارکان پلے کارڈز لیکر آگئے اور حکومتی ارکان پانی دو کے نعرے لگاتے اسپیکر روسٹرم کے سامنے آگئے ۔ پیپلز پارٹی کے رکن نوید قمر اپنے نشست سے اٹھے اور پلے کارڈز چھیننے کی کوشش کی جبکہ اپوزیشن نے دیگر ارکان نے اسپیکر روسٹرم کا گھیراؤ کرلیا ۔اجلاس کے دور ان اپوزیشن رکن آغا رفیق اللہ اور قادر پٹیل سمیت حکومتی و اپوزیشن ارکان میں تلخ کلامی اور عطااللہ خان اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی ۔اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے جھگڑے کے دوران قائم مقام سپیکر نے اجلاس کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…