اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

 آصف  زرداری مشاورت کے بغیر فیصلہ کرنے پر خورشید شاہ پر برس پڑے،پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیدیا،خورشید شاہ اور رخسانہ بنگش کے درمیان بھی تلخ کلامی 

datetime 5  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری مشاورت کے بغیر (ن)لیگ کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی(پی اے سی) تبدیلی کی اجازت دینے پر خورشید شاہ پر برس پڑے اور کہا ہے کہ پارٹی چیئرمین سے مشاورت کیے بغیر ایسے اہم فیصلوں میں بات کرنا پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔آن لائن کو ذرائع نے بتایا کہ سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے پارٹی کی مشاورت کے بغیر ذاتی حیثیت میں (ن)لیگ کی قیادت سے چیئرمین پی اے سی  کی تبدیلی کے حوالے سے مشاورت کی اور کہا کہ آپ چیئرمین پی اے سی تبدیل کرلیں۔

مگر خورشید شاہ نے  اس حوالے سے پارٹی قیادت کو نہیں بتایا جب مسلم لیگ(ن) کی طرف سے چیئرمین پی اے سی تبدیل کردیا گیا تو پیپلزپارٹی نے اس پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ن لیگ نے بغیر مشاورت کے پی اے سی کا چیئرمین تبدیل کردیا ہے اور رانا تنویر حسین کو چیئرمین پی اے سی بنا دیا ہے اس پر پیپلزپارٹی کی ترجمان نفیسہ شاہ نے پریس کانفرنس بھی کرڈالی جبکہ گزشتہ روز پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ خورشید شاہ کی ملاقات ہوئی،اس ملاقات میں شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری، فرحت اللہ بابر، رخسانہ بنگش بھی موجود تھیں۔ملاقات میں خورشید شاہ نے کہا کہ میری ن لیگ کی قیادت کیساتھ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی تبدیلی کے حوالے سے بات ہو گئی تھی اس پر آصف علی زرداری خورشید شاہ پر برس پڑے اور خورشید شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پارٹی مشاورت کے بغیر اتنا اہم فیصلہ کیوں کیا اور ذاتی حیثیت میں بات کیوں کی ہے؟ آپ کا  یہ اقدام پارٹی پالیسی کے خلاف ہے۔ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور سابق سینیٹر رخسانہ بنگش کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی جس پر میٹنگ میں موجود دیگر رہنماؤں نے دونوں کو خاموش کروادیا لیکن خورشید شاہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ آپ کے ن لیگ سے تعلقات ہوں گے لیکن یہ پارٹی پالیسی کے خلاف ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ ن لیگ کے دور میں ان کے بہت قریب رہے ہیں

جس کی وجہ سے پارٹی پر الزام آتا رہا ہے کہ پیپلزپارٹی فرینڈلی اپوزیشن کررہی ہے لیکن خورشید شاہ نے ذاتی مفادات کو پارٹی پالیسی پر ترجیح دی اور ن لیگ کا ہر مسئلے میں ساتھ دیتے رہے۔اس تعلق کی وجہ سے انہوں نے چیئرمین پی اے سی کی تبدیلی پر بھی اپنی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا۔ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی نے چیئرمین پی اے سی بنتے وقت شہبازشریف کا ساتھ دیا اور کہا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا حق ہے کہ وہ چیئرمین پی اے سی بنیں جبکہ اپوزیشن لیڈر کے لئے پیپلزپارٹی کو بھی آفر دی گئی تھی لیکن پیپلزپارٹی نے اصولی موقف اپناتے ہوئے انکار کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…