جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

روپیہ ڈی ویلیو ہونے سے بچا لیا گیا ،اسٹیٹ بینک کا بروقت ایکشن ڈالر کو مارکیٹ سے غائب کرنیوالوں نے اپنے سر پکڑ لیے

datetime 5  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں ڈالر کی قیمت کا چڑھتاسورج اور پاکستانی روپیہ کی قدرو قیمت میں کمی سےپورے ملک میں مہنگائی کے طوفان آگیا ہے ۔ ڈالر کے اس اتار چڑھائو پر اسٹیٹ بینک متحرک ہو گیا ہے اور فوری طور پر قیمتوں پر قابو پانے کیلئے ایکس چینج کمپنیوں سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک سید عرفان شاہ نے ملاقات کی۔اس ملاقات میں حکومتی نمائندوں کی جانب سے ڈالر کے ریٹ 150روپے تک جانے بیانات پر عوام میں پیغام پھیلنے ، ڈالر کی قیمت کو پر لگ جانے

پاکستانی روپیہ کی قدر و قیمت میں کمی سمیت مارکیٹ سے ڈالر غائب ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید عرفان شا ہ کا کہنا تھا کہ مارچ میں بڑی ادائیگیوں کی وجہ سے ڈالر کی مانگ زیادہ تھی ، ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستانی روپیہ مزید ڈی ویلیو نہیں ہو گا اور نہ ہی حکومت کا ایسا کوئی ارادہ ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انٹر بینک میں جب ڈالر کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو گا تو وقتی طور پر ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو گا اور اس کے بعد قیمت میں خود بخود کمی آجائے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…