جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

ونٹیج اینڈ کلاسک کار کلب آف پاکستان کی نویں کار ریلی، 1924 اور1947کی گاڑیاں مرکز نگاہ، ان دونوں گاڑیوں کا قائد اعظم سے کیا تعلق ہے؟ جان کر آپ کوبھی انہیں دیکھنے کی خواہش ہوگی

datetime 1  دسمبر‬‮  2018 |

کراچی(آن لائن)ونٹیج اینڈ کلاسک کار کلب آف پاکستان کی نویں کار ریلی کا گورنر سندھ کی قیادت میں سندھ گورنر ہاؤس سے انعقاد کیا گیا،خوبصورت و تاریخی گاڑیوں کی ریلی نے گورنر سندھ کی سربراہی میں جب سفر کا آغاز کیا تو دو گاڑیاں لوگوں کی توجہ کا خاص مرکز رہیں جس میں سے پہلی گاڑی 1947 کی مشہور زمانہ رولس رائز تھی جو کہ ملکہ برطانیہ کی جانب سے قائد اعظم کو بطور تحفہ دی گئی تھی اور قائد کی زندگی کے آخری ایام تک وہ ان کے زیر استعمال رہی۔

مرکز نگاہ بننے والی دوسری گاڑی 1924 کی رولس رائز تھی جو جس میں بیٹھ کر قائد اعظم پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا حلف اٹھانے آئے تھے۔گاڑیوں کے کارواں میں 1965 کی فورٹ مستنگ، 1954 کی آسٹنگ اور 1968 کی فورڈ سمیت دیگر کئی نادر و نایاب گاڑیاں شامل تھیں ،اس موقع پر خطاب میں گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ کار ریلی کا انعقاد دراصل نوجوان نسل کو ان تاریخی اشیا سے متعارف کروانا تھا جو بانی پاکستان کے زیر استعمال رہیں اور جن کو آج قومی ورثے کا درجہ حاصل ہے۔گورنر سندھ نے مزید کہا کہ عظیم اقوام اپنے اسلاف کی وراثت و نوادرات کو اپنی جان سے بڑھ کر چاہتی ہیں اور آج کی یہ کار ریلی نوجوان نسل میں اپنے قائد اور ان کے نوادرات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا باعث بنے گی،جبکہ اس موقع پر ونٹیج اینڈ کلاسک کار کلب کے بانی و چیئرمین محسن اکرام نے کہا کہ کلب کے پلیٹ فارم سے گزشتہ پندرہ سال سے ملک بھر میں کار ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی گاڑیوں کی ریلی کے انعقاد میں شوق سے کہیں زیادہ بین الصوبائی ہم آہنگی اور تاریخی ورثے کی اہمیت اجاگر کرنے کا جذبہ کارفرما ہے جس کے تحت پاکستان کا روشن پہلو دیگر اقوام تک پہنچایا جاتا ہے۔اکرام محسن کے مطابق منعقد کردہ کار ریلی اپنی طرز کی منفرد کار ریلی ہے جس میں کم و بیش چالیس مختلف اقسام کی نادر و نایاب گاڑیوں نے حصہ لیا،اکرام محسن کی جانب سے گورنر سندھ کا کار ریلی کی کامیابی اور سرپرستی کرنے کے لئے شکریہ ادا کیا گیا اور موقع پر موجود امریکن کونسل جنرل کو بھی حوصلہ افزائی کے لئے خیر مقدمی الفاظ سے نوازا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…