بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

قسطوں اور کم قیمت پر موٹر سائیکل دینے کے نام پر ہزاروں افراد سے بڑا فراڈ، 10ارب70کروڑ سے زائد لوٹ لئے گئے، افسوسناک انکشافات

datetime 27  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی) قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کی جانب سے عوام سے دھوکہ دہی اور فراڈ کے ذریعے10ارب70کروڑ روپے غبن کے معروف کرپشن سکینڈل میں ملزم محمد احمد سیال، چیف ایگزیکٹیو آفیسر، میسرز ایم این ایم پرائیویٹ لمیٹڈ و دیگر کے خلاف احتساب عدالت لاہور کے روبرو کرپشن ریفرنس داخل کیاگیا ہے۔ریفرنس میں لگائے گئے الزامات کے مطابق ملزم احمد سیال نے دیگر شریک ملزمان (سٹاکسٹ) کی مد سے ہزاروں لوگوں کو 25ہزار روپے کی انویسٹمنٹ پر

موٹر سائیکل فراہمی کے نام پر جمع پونجی سے محروم کیا۔تفصیلات کے مطابق ملزم احمد سیال کیجانب سے بطور چیف ایگزیکٹو میسرز ایم این ایم پرائیویٹ لمیٹڈ کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں فروری2017کو رجسٹرڈ کروایا گیا جس میں محمد ارشد علی اور ارم شہزادی کو شیئر ہولڈرز کے طور پر ظاہر کیا گیا تاہم کمپنی کو موٹر سائیکل کے سپیئر پارٹس کی درآمد و برآمد کے کاروبار کے طور پر ظاہر کیا گیا لیکن بعدازاں کمپنی کے کام کی بنیادی نوعیت سے روگردانی کرتے ہوئے ملزمان نے بدنیتی کے ذریعے سینکڑوں سٹاکسٹس کے ذریعے موٹر سائیکلوں کی سستے داموں فراہمی کے نام پر بکنگ کا آغازکیا اس دوران ملزمان نے عوام سے منافع کے لالچ میں خطیر رقوم کی وصولی شروع کی۔ میسرز ایم این ایم کے ان غیر قانونی اقدامات پر ایس ای سی پی کیجانب سے اگست2017میں نیب لاہور کو شکایت موصول ہونے پر کارروائی کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور شہزاد سلیم صاحب کیجانب سے جنوری2018میں براہ راست انکوائری کا آغاز کیا گیا جسے بعد ازاں مئی2018میں انویسٹی گیشن کے مراحل میں داخل کردیا گیا۔دوران تحقیقات انکشاف ہوا کہ ملزمان کی جانب سے مبینہ طور پر عوام سے دھوکہ دہی کے ذریعے رقوم کی وصولی کا نیٹ ورک کم و بیش ملکی سطح پر پھیلایا جا چکا ہے جسکے لئے مرکزی ملزمان نے لگ بھگ 271ایجنٹس(سٹاکسٹس) کو مختلف علاقوں میں موٹر سائیکلز کی بکنگ کے حوالے سے متعین کیا

تاہم ملزمان نے ایم این ایم موٹر سائیکلز کے نام سے بنائی گئی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا مہم کے ذریعے ہزاروں لوگوں سے اربوں روپے کی انویسٹمنٹ وصول کی گئی ابتدائی طور پر عوام کو 25ہزار روپے فی کس انویسٹمنٹ پر20 ہزارموٹر سائیکل فراہم کئے گئے تاہم موٹر سائیکل فراہمی کے لئے 45ایام کی مدت طے کی جاتی جس پر انتظامیہ کیجانب سے اسٹاکسٹ کو فی بکنگ2275روپے بطور کمیشن ادا کئے گئے۔عوام سے وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی اور فراڈ کے ضمن میں

نیب لاہور حکام کیجانب سے فوری طور پر اخبارات میں ملزمان کیخلاف کلیمز کی وصولی کے حوالے سے اشتہارات شائع کرنے کے علاوہ ملزمان کی لگ بھگ840ملین مالیت کی جائیدادوں و بینک اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا گیا جبکہ39مرکزی ملزمان بشمول انتظامیہ و مالکان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔لگ بھگ11ہزار سے زائد متاثرین کیجانب سے 17ارب کے کلیم نیب لاہور میں داخل کئے گئے جس میں سے تصدیق شدہ کلیمز 10ارب70کروڑ روپے مالیت کے رہے۔

بعد ازاں10ملزمان کیجانب سے پلی بارگین کی درخواست داخل کی گئی جس میں سے4ملزمان کی درخواستیں احتساب عدالت لاہور کیجانب سے منظور کی گئی ہیں تاہم نیب لاہور حکام کیجانب سے احتساب قانون کی شک18(جی) اور 9(سی) کی مد میں احتساب عدالت کے روبرو کرپشن ریفرنس داخل کئے گئے ہیں جن پر عدالتی کارروائی جاری ہے۔ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کا کہنا ہے کہ نیب کے چیئر مین جسٹس جاوید اقبال کی نگرانی میں نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اس ضمن میں نیب کی اختیار کردہ فیس نہیں کیس کی پالیسی پر نیب لاہور سختی سے کاربند ہے اور عوام کی لوٹی گئی دولت کی ملزمان سے فوری وصولی اور متاثرین میں تقسیم کو فوقیت دی جارہی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…