بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم ہاؤس کے چاروں ہیلی کاپٹرز کو’’ جہاں ہے جیسے ہے‘‘ کی بنیاد پر گاہک مل گیا لیکن اس خریدار نے ایسی شرط رکھ دی کہ حکومت ہکا بکا رہ گئی

datetime 20  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(اے این این ) عام توقعات، خدشات اور توہمات کے برعکس پاکستانی حکومت کو وزیر اعظم ہاؤس کے ان چار ہیلی کاپٹرز کا خریدار مل گیا ہے جن کے بارے میں اس انکشاف کے بعد کہ وہ اڑنے کے قابل نہیں ہیں، سوشل میڈیا پر محاذ گرم ہو گیا تھا کہ حکومت کا انھیں نیلام کرنے کا اعلان حکمت سے خالی ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے دو ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی ہی اعلان کردہ کفایت شعاری کی پالیسی کے تحت وفاقی حکومت کے زیراستعمال چار ہیلی کاپٹرز اور آٹھ بھینسیں نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔نیلامی کے لیے دستیاب بھینسوں کی رونمائی تو سرکاری ٹیلی وژن پر جلد ہی کر دی گئی تھی۔ پی ٹی وی پر چلنے والی ان آٹھ بھینسوں اور تین کٹوں کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا تھا کہ صاف ستھری، صحت مند اور بظاہر مطمئن دکھائی دینے والی یہ بھینسیں راوی نسل سے تعلق رکھتی ہیں جو زمیندار طبقے میں خاصی مقبول سمجھی جاتی ہیں۔تاہم ان چار ہیلی کاپٹرز کے بارے میں سرکار نے زیادہ تفصیل نہیں بتائی کہ یہ ہیلی کاپٹر کیسے ہیں، کہاں ہیں اور کتنے کے ہیں؟۔لیکن سچ کو سامنے آنا ہی تھا۔ سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا کہ ان چاروں ہیلی کاپٹرز کے حال اچھے نہیں ہیں۔ ان میں سے دو چالیس سال اور دو تیس سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں اور اڑنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ماہرین نے اس صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اتنے بوڑھے اور تقریبا ناقابل استعمال ہیلی کاپٹرز کو نیلام کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔جب یہ صورتحال وفاقی وزیراطلاعات کے سامنے رکھی گئی تو انہوں نے اس سے نیم اتفاق کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ یہ ہیلی کاپٹرز شاید نیلام نہ کیے جائیں بلکہ ہنگامی صورتحال میں امداد فراہم کرنے والے ادارے کو ایئر ایمبولینس کے طور پر استعمال کے لیے دے دیے جائیں۔

تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ اس ادارے کے ماہرین نے ان ہیلی کاپٹرز میں کچھ زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی بلکہ اس کی جگہ بارہ ارب روپے کی گرانٹ کا مطالبہ کر دیا ہے تاکہ ایسے ہیلی کاپٹرز کو ایمولینس کے طور پر استعمال کرنے سے بچایا جا سکے، جن کا استعمال کہیں مزید ایمبولینس کے استعمال کا باعث نہ بن جائے۔اس لیے حکومت نے ان چاروں بدنام ہیلی کاپٹرز کو نیلام کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ان ہیلی کاپٹرز کے بدخواہوں کے لیے بری خبر یہ بھی ہے کہ ابھی نیلامی میں چند روز باقی ہیں اور ان ہیلی کاپٹرز کو خریدار مل بھی گیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بعض با خبر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ویسٹ لینڈ آگسٹا ہیلی کاپٹرز کا کاروبار کرنے والے ایک شخص نے وفاقی حکومت کو پیشکش کی ہے کہ وہ یہ چاروں ہیلی کاپٹرز جہاں ہیں، جیسے ہیں کی بنیاد پر خریدنے کے لیے تیار ہیں۔ان صاحب نے البتہ اس پیشکش کو مشروط کر دیا ہے اور یہی شرط ایک سرکاری افسر کے بقول دودھ میں مینگنیاں بن گئی ہیں۔اور وہ شرط یہ ہے کہ حکومت ان چاروں ہیلی کاپٹروں کے بدلے ان صاحب سے ایک نیا ہیلی کاپٹر خرید لے اور ان چاروں ہیلی کاپٹرز کی قیمت نئے ہیلی کاپٹر کی قیمت میں سے کاٹ لے۔

حکومت پاکستان مذکورہ فرد کو ہیلی کاپٹرز بیچ تو سکتی ہے لیکن اس کے بدلے نئے ہیلی کاپٹر خریدنے کی ضمانت نہیں دے سکتی۔پیشکش یہ اتنی بری بھی نہیں ہے لیکن حکومت پاکستان کے قواعد اس سودے کی راہ میں حائل ہیں جو کہتے ہیں کہ حکومت پاکستان کوئی بھی چیز خریدنے کے لیے عالمی مارکیٹ سے بولی لینے کی پابند ہے اور یہ سودا کیش کی بنیاد پر ہی ہو سکتا ہے اور اس میں اشیا کے تبادلے کی گنجائش نہیں ہے۔یوں حکومت پاکستان مذکورہ فرد کو ہیلی کاپٹرز بیچ تو سکتی ہے لیکن اس کے بدلے نئے ہیلی کاپٹر خریدنے کی ضمانت نہیں دے سکتی۔اور اس یقین دہانی یا ضمانت کے بغیر خریدار پرانے ہیلی کاپٹر اٹھانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا اس کے باوجود کہ انہیں بہت سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ ہیلی کاپٹرز ہیں فوم کا گدا نہیں کہ پرانا دیں اور نیا لے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…