ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

قومی احتساب بیورو(نیب) کا کوئی وجود ہی نہیں ہونا چاہیے، یہ ادارہ ڈکٹیٹر نے کس مقصدکیلئے بنایا تھا،سابق وزیراعظم شاہت خاقان عباسی کا حیرت انگیزموقف سامنے آگیا

datetime 9  جولائی  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میرا ،نواز شریف اور شہباز شریف کا بیانیہ ایک ہی ہے،اصغر خان کیس میں سب کا ٹرائل ہونا چاہئے ، سیاستدان آج بھی کندھے فراہم کرر ہے ہیں گزشتہ 70 سال میں ہم نے کچھ نہیں سیکھا ،نیب کا کوئی وجود ہی نہیں ہونا چاہیے، یہ ادارہ ڈکٹیٹر نے سیاستدانوں کو توڑنے کیلئے بنایا تھا۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ آئین کے مطابق 60 دن میں الیکشن کرانا ضروری ہے۔ نگران حکومت محض الیکشن کروانے آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2002 سیاسی پارٹیوں کیلئے بدترین سال تھا، کنپٹی پر پستول رکھ کر امیدواروں کو سیاسی پارٹیوں سے توڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا کوئی وجود ہی نہیں ہونا چاہیے، یہ ادارہ ڈکٹیٹر نے سیاستدانوں کو توڑنے کے لئے بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مسئلے پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا ، نواز شریف اور شہباز شریف کا بیانیہ ایک ہی ہے، اصغر خان کیس میں سب کا ٹرائل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدان آج بھی کندھے فراہم کرر ہے ہیں گزشتہ 70 سال میں ہم نے کچھ نہیں سیکھا ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ چودھری نثار کو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنا چاہیے تھا۔ ان کو پارٹی ٹکٹ نہ دیتی تو گلہ بنتا تھا۔  سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میرا ،نواز شریف اور شہباز شریف کا بیانیہ ایک ہی ہے،اصغر خان کیس میں سب کا ٹرائل ہونا چاہئے ، سیاستدان آج بھی کندھے فراہم کرر ہے ہیں گزشتہ 70 سال میں ہم نے کچھ نہیں سیکھا ،نیب کا کوئی وجود ہی نہیں ہونا چاہیے، یہ ادارہ ڈکٹیٹر نے سیاستدانوں کو توڑنے کیلئے بنایا تھا۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ آئین کے مطابق 60 دن میں الیکشن کرانا ضروری ہے۔ نگران حکومت محض الیکشن کروانے آئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…