اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

قوم ہنسی خوشی عید کی خوشیاں مناتی رہی مگر کیا آپ جانتے ہیں سرحدوں پر پاک فوج کے جوانوں نے عید کیسے گزاری؟اپنے جوانوں کا جذبہ دیکھ اور سن کر آپ بھی پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگانے پر مجبور ہو جائینگے

datetime 18  جون‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واہگہ (نیوز ڈیسک) بھارتی فورسز کی نہتے کشمیریوں پر فائرنگ اور ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال گولہ باری کے مسلسل واقعات کے بعد پاکستان اور بھارت کی سرحدی فورسز کے مابین عید کے موقع پر روایتی مٹھائی کا تبادلہ نہیں ہوسکا۔پاکستان اور بھارت کی سرحدی فورسز پاکستان رینجرز اور بی ایس ایف کے مابین عید، بیساکھی اور دونوں ملکوں کے قومی تہواروں پر ایک دوسرے کو

خیرسگالی کے طورپر مٹھائی کا تحفہ دیا جاتا ہے لیکن اس بار ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پرکشیدہ صورت حال، بی ایس ایف کی طرف سے سیزفائرمعاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں اوراس کے نتیجے میں بے گناہ پاکستانی شہریوں کی شہادت کے باعث پاکستان اوربھارت کے مشترکہ واہگہ اٹاری بارڈر پر روایتی مٹھائی کا تبادلہ نہیں کیا گیا۔اس سے قبل ماضی میں بھی کئی بار ایسا ہوا کہ جب دونوں ملکوں کے حالات میں کشیدگی آئی تواس کا اثر واہگہ اٹاری بارڈر پر دونوں ملکوں کی سرحدی فورسز کے رویوِں میں بھی نظرآتا ہے، عید کے روز رینجرز اوربی ایس ایف کے جوان اپنی اپنی سرحدوں پرچاق و چوبند کھڑے نگہبانی کرتے رہے لیکن دونوں ملکوں میں ایک ہی دن عید ہونے کے باوجود ایک دوسرے کومبارک باد نہیں دی گئی۔دوسری جانب پاک فوج کے جوانوں نے مورچوں میں موجود اپنے ساتھیوں کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے چوکس سرحدوں پر پہرہ دیا۔ پاک فوج کے جوانوں کا کہنا تھا کہ عید کی اس سے زیادہ خوشی کیا ہو گی کہ ہم مادر وطن کی حفاظت کیلئے سرحدوں پر اپنے اہل خانہ سے دور سرحدوں کی نگہبانی کرتے ہوئے تکبیربلند کر رہے ہیں۔ فوجی جوانوں کا کہنا تھا کہ عید پر اہل خانہ کی یاد تو آتی ہے تاہم وطن کی حفاظت سے بڑھ کر ان کو کوئی خوشی عزیز نہیں۔عید کے روز رینجرز اوربی ایس ایف کے جوان اپنی اپنی سرحدوں پرچاق و چوبند کھڑے نگہبانی کرتے رہے لیکن دونوں ملکوں میں ایک ہی دن عید ہونے کے باوجود ایک دوسرے کومبارک باد نہیں دی گئی

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…