جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا 193 رکنی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب ،پاکستان نے 4نکاتی حکمت عملی کا اعلان کردیا

datetime 16  مئی‬‮  2018 |

نیویارک (نیوز ڈیسک)  پاکستان نے کہا ہے کہ ہمیں دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے 2006 ء میں اختیار کی گئی حکمت عملی کے تحت پرتشدد انتہا پسندی کو فروغ دینے والوں کے سوال پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے 193 رکنی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہمیں دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے 2006 ء میں اختیار کی گئی حکمت عملی کے تحت پرتشدد انتہا پسندی کو فروغ دینے والوں کے سوال پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

عالمی ادارے کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کا جائزہ لینے کے سلسلہ میں منعقد ہو نے والے چھٹے اجلاس کو پاکستانی مندوب نے بتایا کہ مذکورہ حکمت عملی کے چار بنیادی نکات میں دہشت گردی کے لئے سازگار حالات سے نمٹنا، دہشت گردی کو روکنا اور اس سے نمٹنا، دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ریاستوں کی استعداد کار میں اضافہ کرنا اور انسانی حقوق کے احترام اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنا شامل ہیں۔پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل دنیا کے 15 ممالک کے مندوبین کیلئے ایک ظہرانے کا اہتمام بھی کیا جس میں انسداد دہشت گردی کے حوالہ سے عالمی ادارے کی حکمت عملی پر ان مندوبین نے باہمی تبادلہ خیال کیا۔پاکستانی مندوب نے اس موقع پر غزہ میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے انڈونیشیا، فرانس اور افغانستان میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کا جاری اجلاس دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے سامنے آنے والے نئے چیلنجزاور خطرات کا جائزہ لیتے ہوئے ان سے نمٹنے کی سفارشات تیار کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ان حالات پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے جو دہشت گردی کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں۔پرتشدد انتہا پسندی کے خاتمہ کے اس کے لئے کام کرنے والوں کے بیانیہ کا موثر جواب دیا جانا بھی ضروری ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ دہشت گردی کے بچنے کی حکمت عملی کے حوالے سے یہ غلط تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ پر تشدد انتہا پسندی صرف گڈ گورننس،انسانی حقوق، ترقی اور قومی سطح پر قانون کی حکمرانی نہ ہونے کا براہ راست نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی مداخلت اور قبضہ، طویل عرصہ سے جاری تنازعات، بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی میں کمی اور تارکین وطن کی کمیونٹیز کی سماجی و سیاسی محرومیاں بھی پرتشدد انتہا پسندی کے فروغ میں کردار ادا کر رہی ہیں۔اور دہشت گردی کے خاتمہ کی کسی بھی جامع حکمت عملی میں ہمیں ان تمام عوامل کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…