جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

اسحاق ڈار اثاثہ جات ریفرنس: گواہ محمدعظیم پر جرح مکمل نہ ہوسکی، سماعت ملتوی

datetime 9  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ضمنی ریفرنس کی سماعت کے دوران وکیل صفائی قاضی مصباح کی گواہ محمد عظیم پر جرح مکمل نہ ہوسکی اور عدالت نے گواہ سے اسحاق ڈار سے متعلقہ تمام ریکارڈ ساتھ لانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ بدھ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ محمد عظیم نے بتایا کہ وہ 2001 سے 2004 تک نجی بینک میں ڈیٹا اِن پٹ آفیسر رہے اور پھر سپروائزر بنا دیئے گئے۔گواہ نے بتایا کہ اسحاق ڈار کی اسٹیٹمنٹ آف اکاؤنٹ انہوں نے نہیں بنائی بلکہ وہ کمپیوٹر جنریٹڈ تھی، جس کی ٹرانزیکشنز کی تاریخ انہیں یاد نہیں۔محمد عظیم کے مطابق غیر ملکی ٹرانزیکشنز کی انٹری انہوں نے نہیں کی اور نہ ہی اس پر ان کے دستخط ہیں۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے ٹرانزیکشن کا عمل نہیں کیا بلکہ اسے سپروائز کیا۔گواہ محمد عظیم کے مطابق والیوم چار میں لگے چیک پر کلیئرنگ کے ساتھ ان کے دستخط ہیں اور بینک ٹرانزیکشن رپورٹ انہوں نے بینک ریکارڈ کو سامنے رکھ کر خود تیار کی۔وکیل صفائی نے گواہ محمد عظیم سے استفسار کیا کہ ‘سب انٹریاں آپ کی مرضی سے ہوئیں یا آپ کو کوئی ہدایت دی گئی تھی؟جس پر محمد عظیم نے جواب دیا کہ مجاز اتھارٹی نے ہدایت دی تھی کہ کیش، کلیئرنگ اور ٹرانسفر کی الگ الگ انٹریاں کی جائیں۔وکیل صفائی قاضی مصباح نے گواہ سے سوال کیا کہ 28 جون 2011 کا چیک کس کے لیے جمع ہوا؟گواہ نے بتایا کہ یہ چیک ہجویری ٹرسٹ کیلئے جمع ہوا جبکہ 27 نومبر 2012 کو ہجویری ٹرسٹ کے لیے 10 لاکھ روپے کا چیک جمع ہوا۔وکیل صفائی نے سوال کیا کہ کیا یہ چیک آپ کی برانچ کا ہے اور اصل چیک آپ کے پاس موجود ہے؟۔گواہ محمد عظیم نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ وہ چیک ان کی برانچ کا ہے۔

اور اصل چیک موجود ہے۔سماعت کے دوران گواہ محمد عظیم پر وکیل صفائی کی جرح مکمل نہ ہوسکی جس کے بعد عدالت نے گواہ کو اسحاق ڈار سے متعلقہ تمام ریکارڈ ساتھ لانے کا حکم دیتے ہوئے آمدن سے زائد اثاثوں کے ضمنی ریفرنس کی سماعت 16 مئی تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ استغاثہ کے گواہ محمد عظیم کے مرکزی ریفرنس میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کو ہی ضمنی ریفرنس کا حصہ بنایا گیا تھا۔مذکورہ کیس کی 2 مئی کو ہونے والی گذشتہ سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ شیر دل خان کا بیان قلمبند کرکے جرح مکمل کرلی گئی تھی، جبکہ محمد عظیم پر جرح نہیں ہوسکی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…