جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان کے ذریعے گوادر تک وسطی ایشیائی ریاستوں کی رسائی کو یقینی بنانے کیلئے افغان مسئلہ کا حل ناگزیر ہے ٗوزیر اعظم

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ افغانستان کے ذریعے گوادر تک وسطی ایشیائی ریاستوں کی رسائی کو یقینی بنانے کیلئے افغان مسئلہ کا حل ناگزیر ہے ٗ وسطی ایشیائی ریاستیں بندرگاہ سے استفادہ کیلئے سی پیک کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتی ہیں، پاکستان کو علاقائی روابط کے فروغ اور مالیاتی ہم آہنگی کیلئے چین کے صدر شی جن پنگ کے وژن پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ پیر کو یہاں انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے زیر اہتمام

بین الاقوامی میری ٹائم سمپوزیم سے خطاب کررہے تھے ۔ تقریب میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی، بحریہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایڈمرل محمد شفیق، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور ڈی جی میری ٹائم افیرز ریئر ایڈمرل مختار خان نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 6 فیصد ہے تاہم سمندر تک رسائی کو مناسب طور پر بروئے کار لا کر اس میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوا بازی کا شعبہ اگرچہ بہت زیادہ پرکشش دکھائی دیتا ہے تاہم 80 فیصد عالمی تجارت ابھی بھی بحری راستہ سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات کا انعقاد بہت اہم ہے کیونکہ پاکستان سی پیک پر عملدرآمد کر رہا ہے اور چین نے ایک شاہراہ ایک پٹی کے اقدام کا آغاز کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میری ٹائم کا شعبہ ہر ملک کیلئے بہت اہم ہوتا ہے اور پاکستان نے پاک بحریہ اور مرچنٹ نیوی میں روایات قائم کی ہیں اور آج بھی کئی پاکستانی مرچنٹ نیوی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سمندر تک رسائی کی فراہمی بہتر اقتصادی مواصلاتی روابط کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرہند کا علاقہ عالمی توانائی کے بہاؤ اور تجارت کیلئے اہم مرکز ہے کیونکہ اس علاقہ سے توانائی کا بہت زیادہ بہاؤ ہے،

خطہ میں تجارتی حجم میں اضافہ کیلئے یہ بہت اچھا موقع ہے۔ خطہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ افغانستان کے ذریعے گوادر تک وسطی ایشیائی ریاستوں کی رسائی کو یقینی بنانے کیلئے افغان مسئلہ کا حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستیں بندرگاہ سے استفادہ کیلئے سی پیک کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتی ہیں، پاکستان اس وقت 1700 کلومیٹر سے

زائد موٹرویز نیٹ ورک بالخصوص بلوچستان میں 1200 کلومیٹر طویل دیگر سڑکوں کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے منصوبہ جات گوادر کی بندرگاہ کیلئے معاون ہوں گے، پاکستان کو علاقائی روابط کے فروغ اور مالیاتی ہم آہنگی کیلئے چین کے صدر شی جن پنگ کے وژن پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں بہت زیادہ مواقع موجود ہیں جس سے نہ صرف ملک میں بلکہ پورے خطہ میں اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…