منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

بائے بیک اسکیم پرعملدرآمد کب سے شروع ہورہاہے؟اب حکومت کو اس بات کا اختیا ر ہو گا کہ وہ رجسٹری قیمت سے 100فیصد یا ڈبل قیمت پر کوئی بھی پراپرٹی خرید لے،زمین و جائیداد کاکاروبارکرنیوالوں کے ہوش اُڑ گئے

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) وفاقی حکومت کی جانب سے پراپرٹی کو خریدنے (بائے بیک) اسکیم کے اعلان سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ وفاقی حکومت کی بائے بیک اسکیم کے مطابق یکم جولائی 2017کے بعد حکومت کو اس بات کا اختیا ر ہو گا کہ وہ رجسٹری قیمت سے 100فیصد یا ڈبل قیمت پر کوئی بھی پراپرٹی خرید لے ۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز نے حکومت کی اس اسکیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے نا قابل عمل قرار دیا ہے ۔ اسٹیک ہولڈرز کا کہنا کہ

اس سے ملک میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں ہونے والی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کو دھچکہ پہنچے گا ۔اس ضمن میں پاکستان رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فورم کے جنرل سیکریٹری شعبان الہی کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس نے پہلے ہی اس اسکیم کو مسترد کر دیا جس کی بنیادی وجہ اس اسکیم میں قانونی سقم ہے ۔انہوں نے بتایا کہ آئین کا آرٹیکل 24حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ رجسٹری قیمت کی بنیاد پر کسی بھی شہری سے زمین خرید لے۔ اس لئے اس اسکیم کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ بائے بیک اسکیم پر نظر ثانی کرے تا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں جاری بے چینی کو ختم کیا جاسکے۔شعبان الہی نے کہ کہا ہے اس اسکیم کے ذریعے سرکاری ملازمین کو دی جانے والے اختیارات سے خریداروں اور فروخت کنندگان کو ہراساں کئے جانے کے امکانات بھی جس سے سرمایہ کاری متاثر ہو گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے 4ملین سے زائد ویلیو کی پراپرٹی خریدنے کے لئے بھی فائلر ہونے کی شرط عائد کر دی گئی ہے جس سے براہ راست بیرو ن ملک مقیم پاکستانی متاثر ہوں گے کیونکہ بیشتر بیرون مقیم پاکستانی نان فائلر ہیں۔اس حوالے سے انہوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ حکومت نیشنل آدینٹی کارڈ فاراوور سیز پاکستانیز (NICOP) کو فائلر کا درجہ دے کر پراپرٹی خریدنے کی اجازت دے دی جائے تاکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بیرون ملک سے آنے والی سرمایہ تعطل کا شکار نہ ہو۔

انہوں نے خط میں کہا ہے تمام رئیل اسٹیٹ اسٹیک ہولڈرز اس بات پر بھی متفق ہیں کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی پراپرٹی ویلیشن مارکیٹ کے مطابق ہونی چاہئے۔ اس سلسلے میں ڈی سی ویلیوشن میں سالانہ15فیصد اضافی کیا جائے اور سیکشن 236Wکے اپر کیپ کو بھی ختم کر دیا جائے۔ایف بی آر ویلیوشن کی کوریج کو بھی 21شہروں تک بڑھایا جائے ۔شعبان نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی طرز پر پراپرٹی کے معاملات کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ایک الگ اتھارٹی قائم کی جائے

جو کہ براہ راست رئیل اسٹیٹ کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے ۔انہو ں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبوں سے ڈی سی ویلیو ختم کرنے اور ٹیکس ریٹ کم کرنے کی ہدایت کی تھی مگر صوبوں نے ابھی تک ڈی سی ویلیو شن ختم نہیں کی۔شعبان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پراپرٹی سے متعلق معاملات کو جلداز جلد حل کرے تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…